پاک فوج دہشت گردی ختم کرنے کے مشن پر گامزن

 فرخ ریاض بٹ 
وطن عزیز گزشتہ کئی برس سے دہشت گردی سے نبرد آزما رہا ہے، افواج پاکستان کی بے مثال قربانیوں کی بدولت چند سال قبل دہشت گردی پر قابو پانے میں کامیابی حاصل ہوئی ،تاہم تین سال قبل دہشت گردی نے ایک بار پھر سر اُٹھانا شروع کردیا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانی و مالی ہر قسم کا نقصان اٹھایا ہے۔وطن عزیز پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جس نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اور دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں۔دنیا کے کسی اور ملک میں دہشت گردی کے خلاف نہ تو اتنی طویل جنگ لڑی ہے اور نہ ہی اتنی قربانیاں دی ہیں۔پاک فوج کے بہادر سپاہی اور آفیسرز اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر پاکستان کی حفاظت کر رہے ہیں ۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کے خلاف بغیر کسی رکاوٹ کے مسلسل کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز نے ایک نہیں،کئی بار دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی، امن دشمنوں کے ٹھکانے تباہ کیے اور معاشرے کی جڑوں میں سرایت کرچکے ان عناصر کا قلع قمع کیا ۔ گزشتہ کچھ عرصے سے دہشت گردوں کا سب سے بڑا ٹارگٹ سیکیورٹی فورسز رہی ہیں، اس کے باوجود جس عزم و ہمت کے ساتھ وہ آپریشنزکر رہی ہیں وہ یقیناً قابل تعریف ہے اور پوری قوم کے لیے اُمید کی کرن بھی۔ اس وقت پنجاب اور سندھ میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی کی اصل وجہ حکومتی رِٹ ہے جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانے افغانستان میں موجود ہیں، ان کے ہینڈلرز افغانستان میں ہیں اور اس درندہ صفت گروہ کو طالبان حکومت کی طرف سے آراستہ رہائش گاہیں، گاڑیاں اور امریکی چھوڑا گیا جدید وبھاری اسلحہ مہیا کیا جاتا ہے۔مالی معاونت بھارت فراہم کرتا ہے اور واردات کی منصوبہ بندی بھی کی جاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر خصوصاً بلوچستان اور کے پی کے میں ان درندوں کے سہولت کار بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کی صورت میں موجود ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ افغانستان سے اپنے چھوڑے گئے ہتھیار اور جنگی سازو سامان واپس لینے کا اعلان بھی کر چکے ہیں کیونکہ یہ غیر ملکی ہتھیار پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلانے میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔ آج پاکستان کو ماضی کی نسبت زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک زمانے میں کہا جاتا تھا کہ پاکستان کا محل وقوع اسے زبردست دفاعی اہمیت دیتا ہے اور پوری دنیا اس کو اپنے ساتھ ملانا چاہتی تھی۔ بدقسمتی سے اب وہ وقت آگیا ہے کہ پاکستان ایک خطرناک محل وقوع میں گھرا ہوا ہے۔ سوائے اس کے آزمودہ دوست چین کے، باقی تمام ہمسائے اس کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ پاکستان اس وقت دو اطراف سے دہشت گرد حملوں کی زد میں ہے ایک جانب تو تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی پاکستان کے اندر یہ حملے کر رہی ہے۔ جس کی پناہ گاہیں، پاکستان کے بقول افغانستان کے اندر ہیں تو دوسری طرف بلوچستان میں علیحدگی پسند جنگجو کارروائیوں میں مصروف ہیں جن کا ہدف ماہرین کے مطابق پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور چین کے اشتراک سے چلنے والے منصوبوں کو نشانہ بنانا ہے۔
بلوچستان کے اندر بھی بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملوں میں شدت آرہی ہے اورسمجھا جارہا ہے کہ یہ تنظیم اپنی کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف سیکیورٹی فورسز کو بلکہ پاکستان اور چین کے اشتراک سے چلنے والے منصوبوں کو بھی اپنا اہم ہدف سمجھتی ہے۔ بلوچ عسکریت پسندوں کے بارے میں بھی پاکستان کا موقف رہا ہے کہ وہ کارروائیاں کرنے کے بعد سرحد پار چلے جاتے ہیں اور اکثر اوقات افغانستان یا ایران میں روپوش ہو جاتے ہیں۔یہ دہشت گرد جو افغانستان سے واپس آئے ہیں جارحانہ انداز میں ریاست پاکستان اور اس کے اداروں پر حملے کر رہے ہیں۔پاکستانی فورسز ان دہشت گردوں سے بخوبی نمٹ رہی ہے ، دوسری جانب گراس روٹ لیول پر بھی عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔چند روز قبل ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان میں پاکستان مخالف دہشت گرد گروہ کے مبینہ حملے میں آٹھ پاکستانی شہریوں کو بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ مقتولین کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع بہاولپور سے تھا۔ حملہ آوروں کی تعداد ایک درجن سے زائد بتائی گئی ہے جو واردات کے بعد فرار ہو گئے۔ ایران کا صوبہ سیستان و بلوچستان ماضی میں پاکستان مخالف گروہوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ اگرچہ ایران ان گروہوں کے خلاف کارروائیاں کرتا رہا ہے، مگر حالیہ واقعہ سرحدی سیکیورٹی تعاون پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے کہ پاکستان اور ایران مل کر اس مسئلے کو حل کریں ،دونوں فورسز کے باہمی رابطے،معلومات کی شیئرنگ اور مشترکہ کارروائیاں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔پاکستان کی وسیع پیمانے پر انسداد دہشت گردی کی مہارت نے اسے عالمی سلامتی کے مباحثوں میں ایک اہم کھلاڑی کے طور پر پیش کیا ہے۔دہشت گردی کے خلاف میدان جنگ میں، پاکستان نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس کی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ایجنسیاں بڑے دہشت گرد گروہوں کو ختم کرنے میں کامیاب رہی ہیں، جس کے نتیجے میں حملوں کی شدت اور تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔فوجی آپریشنز، جیسے کہ ضربِ عضب اور ردالفساد، نے ان علاقوں میں امن بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا جو پہلے شدت پسندی کا مرکز تھے۔ پاکستانی عوام کی استقامت اور محافظوں کی قربانیوں نے ملک کو انتہا پسندی کے آگے جھکنے نہیں دیا۔پاکستان پہلے بھی تن تنہا دہشت گردی کے جن کو بوتل میں بند کرکے دُنیا بھر کو حیران ہونے پر مجبور کرچکا ہے، پاکستان کو دُنیا کی سب سے بہترین اور پیشہ ور افواج کا ساتھ میسر ہے، جو محدود وسائل میں بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ وطن عزیز کے لیے اس بار بھی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کاوشوں کو دُنیا میں سراہا اور قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ سیکیورٹی فورسز جلد فتنۃ الخوارج کے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کرنے میں سرخرو ہوں گی۔ اور قوم ایک مستحکم اور خوشحال مستقبل کی طرف گامزن ہوگی۔