قتل کا ٹرائل براہ راست ہائیکورٹ نہیں کر سکتی‘ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے تسلیم کیا ان پر بیرونی دباؤ تھا، یہ ہماری عدالتی تاریخ کا افسوسناک باب ہے:اضافی نوٹ

 بھٹو کیس   فیئر ٹرائل کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا  چیف جسٹس

مجھے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت دیگر ججز کے نوٹس پڑھنے کا اتفاق ہوا لیکن جسٹس منصور کے نوٹ سے ایک حد تک اتفاق کرتا ہوں‘ریفرنس میں دی گئی رائے میں کیس کے میرٹس پر کسی حد تک بات کی گئی ہے

جسٹس دراب پٹیل،جسٹس محمد علیم اور جسٹس صفدراْس وقت کے ماحول کے باوجود  موقف پر کھڑے رہے‘بھٹو کیس جیسے واقعات کا تدارک نہ کیا جائے تو عدالتی نظام کی شفافیت اور عوامی اعتماد کو خطرات لاحق رہتے ہیں:جسٹس یحییٰ آفریدی

 اسلام آباد(ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے ذوالفقار علی بھٹو کیس میں نے اضافی نوٹ جاری کر دیا، اپنے نوٹ میں چیف جسٹس نے کہا اہے کیس میں ٹرائل کورٹ اور اپیلٹ عدالت کی جانب سے فیئر ٹرائل تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے قتل کے مقدمے میں صدارتی ریفرنس پر پانچ صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ جاری کیا۔چیف جسٹس نے لکھا ہے  ضابطہ فوجداری کے تحت قتل کا ٹرائل براہ راست ہائیکورٹ نہیں کر سکتی۔ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ نے بعد میں تسلیم کیا ان پر بیرونی دبائو تھا۔ یہ ہماری قوم کی عدالتی تاریخ کا افسوسناک باب ہے۔اضافی نوٹ میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے لکھا  مجھے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت دیگر ججز کے نوٹس پڑھنے کا اتفاق ہوا لیکن جسٹس منصور کے نوٹ سے ایک حد تک اتفاق کرتا ہوں۔ریفرنس میں دی گئی رائے میں کیس کے میرٹس پر کسی حد تک بات کی گئی ہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ میں مزید کہا ہے کہ آرٹیکل 186 کے تحت سپریم کورٹ صرف ایڈوائزری دائرہ اختیار رکھتی ہے تاہم فیئر ٹرائل کے سوال پر فیصلے کے پیراگراف سے اتفاق کرتا ہوں اس نتیجہ پرپہنچا ہوں  ذوالفقار بھٹو کیس میں ٹرائل کورٹ اور اپیلیٹ عدالت کی جانب سے فیئر ٹرائل کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم کے فیصلے سے جسٹس دوراب پٹیل، جسٹس محمد حلیم اور جسٹس جی صفدر شاہ کے جرات مندانہ اختلافات کو تسلیم کرنے کی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے جو مشکل حالات کے باوجود اپنے موقف پر قائم رہے۔چیف جسٹس نے اپنے اضافی نوٹ میں یہ بھی تحریر کیا کہ ہے  تینوں ججز کے اختلافی نوٹس سے صورتحال تبدیل نہیں ہوئی۔ عدلیہ کی ساکھ اور غیر جانبداری برقرار رہی اور قانون کی حکمرانی کیلئے پر عزم خودمختار عدلیہ کی اہمیت اجاگر ہوئی۔اضافی نوٹ میں چیف جسٹس نے واضح کیا کہ میری رائے میں ذوالفقار علی بھٹو کو شفاف ٹرائل سے محروم رکھا گیا۔ بھٹو کیس جیسے واقعات کا تدارک نہ کیا جائے تو عدالتی نظام کی شفافیت اور عوامی اعتماد کو خطرات لاحق رہتے ہیں۔یہ ریفرنس شاید ہمارے سامنے نہ آتا مگر کچھ واقعات اس کا موجب بنے۔ جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کے کچھ نکات کو ایڈریس کرنا ضروری ہے۔اس وقت کی غیر معمولی سیاسی فضا میں دباو نے انصاف کے عمل کو متاثر کیا۔نوٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سب عدالتی آزادی کے نظریات سے متصادم تھا، آئینی طرز حکمرانی سے انحراف سیاسی مقدمات میں عدالتی کارروائیوں پر غیر ضروری اثر ڈالتا ہے۔چیف جسٹس نے لکھا کہ بھٹو کیس میں جسٹس دراب پٹیل، جسٹس محمد علیم اور جسٹس صفدر کے جرات مندانہ اختلافی نوٹ سے اہمیت اجاگر ہوتی ہے جو اس وقت کے ماحول کے باوجود اپنے موقف پر کھڑے رہے، ان ججز سے اختلافی نوٹس سے صورتحال تبدیل نہیں ہوئی لیکن عدلیہ کی ساکھ اور غیر جانبداری برقرار رہی۔ اختلافی نوٹس سے قانون کی حکمرانی کے لیے پر عزم خودمختار عدلیہ کی اہمیت اجاگر ہوئی۔