جوڈیشل کمیشن اجلاس میں جسٹس ایس ایم عتیق شاہ کو چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ،جسٹس روزی خان کو چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ،سندھ ہائی کورٹ کے لئے محمد جنید غفار کو مستقل چیف جسٹس بنانے کی منظوری دی گئی
26ویں آئینی ترمیم سے متعلق فیصلہ پہلے کیا جانا چاہیے:جسٹس منصور علی شاہ کا کارروائی پر اعتراض ‘جسٹس منیب اختر‘تحریک انصاف کے دو ارکان اور خیبرپختونخوا کے وزیر قانون نے بھی جسٹس منصور کی رائے کی تائید کی
اسلام آباد(آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی کی زیر صدارت جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں بلوچستان، پشاور اور سندھ ہائیکورٹس کے نئے چیف جسٹسز کی تعیناتی پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، بلوچستان ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کے لیے جسٹس روزی خان کا نام منظور کر لیا گیا ۔بلوچستان ہائیکورٹ سے تین سینئر ججز جسٹس روزی خان، جسٹس کامران خان اور جسٹس اقبال کے ناموں پر غور کیا گیا، تاہم کمیشن نے بالآخر جسٹس روزی خان کے نام پر اتفاق کیا۔دوسری جانب، پشاور ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس کے طور پر جسٹس عتیق شاہ کی تعیناتی کی منظوری دی گئی۔ اس نشست کے لیے جسٹس عتیق شاہ، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس ارشد علی کے نام زیرغور آئے تھے۔اسی طرح سندھ ہائیکورٹ کیلئے محمد جنید غفار کو مستقل چیف جسٹس بنانے کی منظوری دی گئی جو کہ سنیارٹی لسٹ میں پہلے نمبر ہیں۔ جسٹس جنید غفار کی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ تعیناتی متفقہ طور پر ہوئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کیلئے جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس گل حسن اورنگزیب ناموں پرغور ہوا۔ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے کارروائی پر اعتراض اٹھایا۔ ان کا موقف تھا کہ 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق فیصلہ پہلے کیا جانا چاہیے۔ جسٹس منیب اختر نے جسٹس منصور علی شاہ کی رائے سے اتفاق کیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے دو ارکان اور خیبرپختونخوا کے وزیر قانون نے بھی اس رائے کی تائید کی۔