لاہور: پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت کے انعقاد کے اعلان کے بعد صوبے میں پتنگ بازی سے متعلق سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں تیز ہوگئی ہیں۔
اس سلسلے میں علامہ اقبال ٹاؤن لاہور میں ڈسٹرکٹ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداران کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں بسنت کے انعقاد، پتنگ سازی اور شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے مختلف امور پر گفتگو کی گئی۔اجلاس میں چیئرمین کائٹ فلائنگ خواجہ ندیم سعید وائیں، صدر شیخ سلیم، لالا بلو اور دیگر عہدیداران و رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بسنت کے حوالے سے اپنے مطالبات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔
بسنت کا کاروبار جاری رکھنے کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ ندیم سعید وائیں نے کہا کہ بسنت کا کاروبار مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بسنت کو صرف ایک روزہ سرگرمی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس سے وابستہ کاروبار اور ہنرمندوں کو بھی قانونی اور منظم انداز میں کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے بسنت منانے کی اجازت دی گئی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ پتنگ سازی اور اس سے متعلق کاروباری سرگرمیوں کے لیے بھی واضح اور قابلِ عمل طریقہ کار وضع کیا جائے۔
شہریوں اور بچوں کی حفاظت پر زور
خواجہ ندیم سعید وائیں نے کہا کہ بسنت کے موقع پر شہریوں کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق بچوں کی حفاظت کے لیے بھی خصوصی حفاظتی اقدامات کیے جانے چاہئیں تاکہ تہوار کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جاسکے۔کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پتنگ بازی کے حوالے سے حکومت کی جانب سے مقرر کردہ حفاظتی اصولوں اور قوانین پر عملدرآمد ضروری ہے۔
پتنگ سازوں کے لائسنس دوبارہ جاری کرنے کا مطالبہ
چیئرمین کائٹ فلائنگ نے بتایا کہ پتنگ سازوں کے لائسنس دوبارہ جاری کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق ستمبر سے پنجاب میں تقریباً چار سے پانچ ماہ تک پتنگیں بنانے کی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر حکومت نے بسنت کے انعقاد کا اعلان کردیا ہے تو پتنگوں کی تیاری کے لیے مینوفیکچرنگ کی اجازت بھی دی جانی چاہیے تاکہ بسنت سے وابستہ افراد قانونی طریقے سے اپنا کاروبار کرسکیں۔
بسنت عام آدمی کا تہوار ہے، کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن
خواجہ ندیم سعید وائیں نے کہا کہ بسنت آج بھی عام آدمی کا تہوار ہے اور اسے بھرپور انداز میں منایا جائے گا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بسنت اور پتنگ سازی سے متعلق پالیسی میں واضح قواعد و ضوابط وضع کیے جائیں تاکہ ایک طرف شہریوں کی حفاظت یقینی بنائی جاسکے اور دوسری جانب اس روایتی تہوار سے وابستہ کاروبار بھی بحال ہوسکے۔پریس کانفرنس میں ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پتنگ سازوں اور اس شعبے سے وابستہ دیگر افراد کے لیے لائسنسنگ اور مینوفیکچرنگ کا عمل آسان بنایا جائے، جبکہ پتنگ بازی کے دوران حفاظتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔بسنت کے انعقاد کے اعلان کے بعد اب شہریوں، پتنگ سازوں اور کائٹ فلائنگ سے وابستہ افراد کی نظریں حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کیے جانے والے حتمی قواعد و ضوابط اور حفاظتی اقدامات پر مرکوز ہیں۔