ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرہ کار محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران اور عراق کے عوام کے درمیان ایک تاریخی اور مضبوط رشتہ موجود ہے جسے کسی بھی صورت میں توڑنا ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ عراق کے ساتھ ہمسائیگی کی بنیاد بھائی چارہ، غیر ملکی مداخلت کے خلاف مزاحمت اور مشترکہ مستقبل کے تصور پر قائم ہے، اور یہ اصول دونوں ممالک کے تعلقات کی بنیاد ہیں۔قالیباف نے بتایا کہ وہ اعلیٰ سطح وفد کے ہمراہ آج عراق کا دورہ کریں گے۔ اس دوران انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ سفارتی کوششوں کو فوجی کارروائی سے مکمل کیا جائے اور وعدوں کی خلاف ورزیوں کا عملی ردعمل دیا جائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ ایران پر دباؤ بڑھانے سے وہ رعایتیں حاصل نہیں کر سکتا جو کبھی اسلام آباد معاہدے کا حصہ ہی نہیں تھیں۔
انہوں نے یہ باتیں امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے بیانات پر ردعمل کے طور پر کہیں، جن میں انہوں نے ایران کے خلاف سخت موقف اپنایا تھا۔ قالیباف کا کہنا تھا کہ ایران پر دباؤ بڑھانے سے امریکہ کو کوئی رعایت حاصل نہیں ہو گی اور خطے میں ایران کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔