28 فروری کو، متحدہ عرب امارات کے نائب صدر شیخ منصور بن زاید النہیان اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کے درمیان ایک اہم اور غیر معمولی ٹیلیفونک گفتگو ہوئی۔
یہ رابطہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس کے بعد سے یہ دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ تھا، جو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی کے بعد ہوا ہے۔
مذاکرات کا مقصد اور اہمیت
اس گفتگو میں، یو اے ای کے نائب صدر نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ساتھ خطے میں کشیدگی میں کمی لانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا اور ممکنہ اقدامات پر غور کیا تاکہ خطے میں امن اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ خبر ایجنسی کے مطابق، اس ملاقات میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات پر بات چیت ہوئی۔
پچھلے حالات اور جاری کشیدگی
یاد رہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد، یو اے ای نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اپنایا اور اپنے سفیر کو واپس بلا لیا تھا۔ اس کے علاوہ، تہران کی جانب سے خلیجی ممالک کو نشانہ بنانے کے بعد، یو اے ای نے اپنا سفارت خانہ بھی بند کر دیا تھا۔ یہ تمام اقدامات خطے میں کشیدگی کو بڑھانے والی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علاقائی صورتحال کی حساسیت
اس رابطہ کو اس لیے بھی خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ یہ خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایک مثبت اور تعمیری قدم ہے۔ اس سے پہلے، کسی بھی اعلیٰ سطحی رابطے کی کمی دیکھی گئی تھی، اور اب یہ ملاقات ایک ممکنہ راہ ہموار کرنے کی طرف اشارہ کرتی ہے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور خطے میں استحکام لایا جا سکے۔