امریکی عوام نے جنگ کے خلاف ووٹ دیا، ایران بھی ان کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے: محمد باقر قالیباف

امریکی عوام نے جنگ کے خلاف ووٹ دیا، ایران بھی ان کے مؤقف کی حمایت کرتا ہے: محمد باقر قالیباف

تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ہونے والے نقصان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے جنگ کے خلاف فیصلہ سنایا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکی عوام نے یا تو اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یا مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث جنگ کے خلاف اپنا مؤقف واضح کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران بھی امریکی عوام کی جانب سے اختیار کیے گئے اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ امریکی عوام نے انتخابات کے ذریعے جنگ کے حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور ان کے اس پیغام کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر امریکی حکومت عوام کی خواہشات اور انتخابی نتائج سے سامنے آنے والے پیغام کو نظرانداز کرتے ہوئے بین الاقوامی طاقتوں اور دباؤ ڈالنے والے عناصر کے مفادات کے لیے کام کرتی رہی تو اسے اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی جانب سے جنگ کو مسترد کیے جانے کے پیغام کو نظرانداز کرنا امریکا کے لیے سنگین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔قالیباف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انتخابی نتائج کے بعد ایرانی حکام کی جانب سے امریکی عوام کے سیاسی فیصلے کو جنگ مخالف مؤقف کے تناظر میں پیش کیا جا رہا ہے۔