بجلی کی پیداوار بہت زیادہ ہوگئی، مہنگے بل ملنے کاخدشہ

جولائی میں قومی پیداوارمیں 7 فیصد اضافہ، بجلی بنانے کی اوسط لاگت بھی 38 فیصد بڑھی
ڈسکوز کی فی یونٹ 2 روپے 52 پیسے اضافی وصولی کی درخواست، حتمی فیصلہ نیپرا کریگا
کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ملک میں بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگیا تاہم بجلی پیدا کرنے کی اوسط لاگت میں بھی بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔نیپرا کی رپورٹ کے مطابق جولائی 2026ء￿  میں قومی بجلی کی پیداوار سالانہ بنیاد پر 7 فیصد اضافے سے 15 ہزار 122 گیگا واٹ آور رہی، جبکہ ماہانہ بنیاد پر بھی بجلی کی پیداوار میں 13 فیصد اضافہ ہوا۔جون 2026ء￿  میں ملک میں بجلی کی مجموعی پیداوار 13 ہزار 431 گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی تھی، جو جولائی میں بڑھ کر 15 ہزار 122 گیگا واٹ آور ہوگئی۔بجلی کی پیداوار میں اضافے کے باوجود پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ صارفین کیلیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔اعدادوشمار کے مطابق جولائی میں ہائیڈرل بجلی کی پیداوار 6 ہزار 19 گیگا واٹ آور رہی، جو گزشتہ سال کے اسی ماہ کے مقابلے میں 6فیصد زیادہ ہے۔ہائیڈرل پاور نے مجموعی قومی بجلی کی پیداوار میں 39.8 فیصد حصے کے ساتھ سب سے بڑا حصہ برقرار رکھا۔دوسری جانب درآمدی کوئلے سے بجلی کی پیداوار تقریباً دگنی ہوگئی اور جولائی میں 2 ہزار 169 گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس آر ایل این جی سے بجلی کی پیداوار میں نمایاں کمی ہوئی اور یہ 33 فیصد کم ہوکر ایک ہزار 629 گیگا واٹ آور رہ گئی۔نیپرا رپورٹ کے مطابق جولائی میں بجلی کی اوسط پیداواری لاگت سالانہ بنیاد پر 38 فیصد اضافے سے 10 روپے 75 پیسے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔ فرنس آئل سے بجلی کی پیداوار کی لاگت میں سب سے نمایاں اضافہ ہوا، جو 61 فیصد بڑھکر 50 روپے 8 پیسے فی یونٹ ہوگئی۔آر ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کی لاگت میں بھی 115 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 47 روپے 38 پیسے فی یونٹ تک پہنچ گئی تاہم مہنگے ایندھن سے بجلی کی پیداوار میں اضافے کے باعث مجموعی پیداواری لاگت پر دبائو بڑھنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈسکوز نے جولائی کی بجلی کھپت پر فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین سے فی یونٹ 2 روپے 52 پیسے اضافی وصول کرنے کی درخواست بھی کردی ہے۔ نیپرا کی جانب سے درخواست کی جانچ اور سماعت کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔بجلی کی پیداوار میں اضافے کے باوجود پیداواری لاگت میں تیزی سے اضافہ توانائی شعبے کے لیے اہم چیلنج بن گیا ہے، جبکہ مہنگے فرنس آئل اور آر ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت میں اضافے کے اثرات بالآخر صارفین کے بجلی کے بلوں پر منتقل ہونے کا امکان ہے۔