حافظ نعیم ملک گیر ہڑتال کا الٹی میٹم

مہنگائی کا بوجھ ناقابل برداشت ، عوام کو ریلیف دیا جائے :امیر جماعت اسلامی ، لاہور بار کا دھرنوں کی حمایت کا اعلان 
لاہور(خصوصی رپورٹ)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری واپس نہ لیا تو آج ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرسکتے ہیں، قوم پٹرول کے ہر لٹر پر بھاری ٹیکس ادا کر رہی ہے ، مہنگائی کا بوجھ ناقابل برداشت ہوگیا، دھرنا میں خواتین و وکلا بھی شرکت کریں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے پٹرولیم لیوی ، آئی پی پیز اور مہنگائی کے خلاف مال روڈ فیصل چوک میں وزیراعلیٰ ہائوس کے باہر دھرنے کے تیسرے روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ ، قائم مقام سیکرٹری جنرل نذیر جنجوعہ ، صدر لاہور بار عرفان حیات باجوہ، ڈپٹی سیکرٹریز جماعت اسلامی پاکستان اظہر اقبال حسن، رسل خان بابر، شیخ عثمان فاروق، امیر لاہور ضیاالدین انصاری اور سیکرٹری اطلاعات شکیل احمد ترابی بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے رات کو پٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا ، جس سے عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے، حکومت کو قیمتوں میں کمی کرنا پڑے گی، پٹرولیم لیوی ختم کرکے پٹرول کی قیمت 225 روپے فی لٹر کی جائے ، غریب آدمی اب لیوی کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتا ، حکومت عوام سے زبردستی پیسے وصول کر رہی ہے۔ بجلی اور گیس کے بلوں پر بھی بھاری ٹیکس عائد ہیں ، ایف بی آر کو ختم کردیا جائے تو ملکی حالات بہتر ہوسکتے ہیں،معاشی بدحالی کی ذمہ دار حکومت ہے ۔انہوں نے کہا کہ آٹا 160 روپے کلو اور روٹی 25 روپے کی ہوچکی ،کسان بھی مہنگائی سے پریشان ہیں، کھاد کسان کی پہنچ سے دور ہوچکی ، تعلیم، صحت اور زراعت کو تباہ کرکے رکھ دیا گیا،پنجاب میں حالات سب سے زیادہ خراب ہیں ، 11 ہزار سکول آئوٹ سورس کردیے گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی بھی عوام کے ساتھ ظلم کر رہی ہے ، سندھ میں تعلیم کو تباہ کردیا ہے، کراچی میں قبضہ میئر کو بٹھایا ہوا ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ جب پی ڈی ایم اقتدار میں آئی تو ملکی قرضہ 45 ہزار ارب روپے تھا جو اب 95 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکا ، پی ڈی ایم کرپشن اور نااہلی کا ٹولہ ہے، ملک بھر کے عوام حکومتی اقدامات سے پریشان ہیں ، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم سمیت تمام حکومتی جماعتیں فارم 47 کی پیداوار ہیں، عوام کو سندھی اور مہاجر کی بنیاد پر نہ لڑایا جائے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنے تین مقامات پر جاری ہیں، ہمیں اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں چاہیے عوام کو سہولت دی جائے،جماعت اسلامی انتظامی یونٹس کے خلاف نہیں ،آئین کے مطابق بااختیار مقامی حکومتیں قائم کی جائیں، پنجاب میں 2015 سے اوربلوچستان میں آج تک بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے۔ دھرنوں کے دبائو کے باعث سندھ میں 2023 کو بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ دریں اثنا پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کا وزیراعلیٰ ہائوس لاہور کے باہر دھرنا تیسرے روز بھی جاری رہا، لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر نے دھرنے کی حمایت کا اعلان کردیا۔ صدر لاہور بار ایسوسی ایشن عرفان حیات باجوہ نے دھرنے میں شرکت اور خطاب کرتے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن نے عوام کو شعور دیا ،وکلا برادری بھی جماعت اسلامی کے دھرنے میں شریک ہوگی۔دریں اثناء کراچی اور پشاور میں بھی گورنر ہائوسز کے باہر جماعت اسلامی کے دھرنے جاری ہیں ۔