ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی مطالبات کی فہرست پیش کر دی

ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکی مطالبات کی فہرست پیش کر دی

ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکہ کے سامنے نئے مطالبات رکھ دیے ہیں، جن میں اس نے سابقہ مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

 ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مرکزی مذاکرات کار، محمد باقر قالیباف، نے یہ مطالبات امریکی حکام کے سامنے پیش کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ایران کی جانب سے یہ مطالبہ اس ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کی شرائط کو پورا کرنے کا مطالبہ ہے، جس کی مدت ختم ہو چکی ہے۔ اس مفاہمتی یادداشت کے تحت، دونوں ممالک نے مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے، ایران کے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے، اور آبنائے ہرمز کو آزادانہ طور پر کھلا رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔

اس کے علاوہ، امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، اقتصادی پابندیاں اٹھانے، ایران کی تعمیر نو میں مدد فراہم کرنے اور منجمد ایرانی فنڈز بحال کرنے کی بھی رضامندی ظاہر کی تھی۔ تاہم، ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے کو ان شرائط سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور یہ مطالبات آبنائے ہرمز کے مستقل طور پر کھولنے کے لیے اہم ہیں۔