ایران نے آبنائے ہرمز جزوی طور پر کھولنے کا اعلان، سخت شرائط عائد

ایران نے آبنائے ہرمز جزوی طور پر کھولنے کا اعلان، سخت شرائط عائد

مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے تاہم اس کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کر دی ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ روزانہ صرف 15 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی اور ہر جہاز کو ایران کی پیشگی منظوری لینا ہوگی۔یہ نیا نظام پاسدارانِ انقلاب کی نگرانی میں نافذ کیا گیا ہے جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال جنگ سے پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ایران نے یہ بھی شرط رکھی ہے کہ اس کے بیرونِ ملک منجمد اثاثے دو ہفتوں کے اندر بحال کیے جائیں، جو معاہدے کی اہم ضمانت تصور کی جا رہی ہے۔مزید برآں ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے کو اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے باضابطہ تسلیم کیا جائے، بصورت دیگر وہ دوبارہ کارروائی کے لیے تیار ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہ کرے۔دوسری جانب یورینیئم افزودگی کے معاملے پر ایران نے معاہدے کی پاسداری جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر لبنان پر حملے نہ رکے تو آبنائے ہرمز دوبارہ بند کی جا سکتی ہے۔دوسری طرف امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر تاریخی مذاکرات آج اسلام آباد میں ہوں گے، جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور ریڈ زون سیل کر دیا گیا ہے۔