ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے شرائط رکھ دیں

ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے شرائط رکھ دیں

نیویارک: ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے اپنی شرائط پیش کردی ہیں، جن میں امریکی بحری ناکہ بندی کا فوری خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی اور تمام محاذوں پر جنگ بندی شامل ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف سے ملاقات میں تہران کا مؤقف پیش کیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کی جائے، ایران کے منجمد اثاثے جاری کیے جائیں اور تمام ’’مزاحمتی محاذوں‘‘ پر جاری جنگ کا خاتمہ کیا جائے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی کہ نیویارک میں قطر کی ثالثی کے ذریعے امریکا تک ایران کا پیغام پہنچایا گیا۔ ان کے مطابق ایران جنگ کے تمام محاذوں پر خاتمہ، امریکی فوجی کارروائیوں کی بندش، بحری ناکہ بندی کے خاتمے، اقتصادی جنگ کے خاتمے اور ایرانی اثاثوں کی واپسی کا خواہاں ہے۔ایران اس سے قبل بھی عندیہ دے چکا ہے کہ اگر امریکی فوجی دباؤ اور ناکہ بندی میں کمی کی جائے تو آبنائے ہرمز کو تقریباً ایک ہفتے کے اندر دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔

امریکا ایران مذاکرات جاری
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک میں جاری امریکا ایران رابطوں کو مثبت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید موجود ہے۔تاہم واشنگٹن اور تہران کے درمیان بنیادی معاملات پر اختلافات تاحال برقرار ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی، پابندیوں، فوجی کارروائیوں اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت مختلف امور مذاکرات میں اہم حیثیت رکھتے ہیں۔

عالمی توانائی منڈی کے لیے اہم معاملہ
آبنائے ہرمز کا معاملہ عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ یہ آبی گزرگاہ خلیج فارس سے خام تیل، ایل این جی اور دیگر توانائی مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔اسی وجہ سے آبنائے ہرمز کی بندش یا دوبارہ کھولنے سے متعلق کسی بھی پیش رفت کے عالمی تیل کی قیمتوں، توانائی کی فراہمی اور علاقائی تجارت پر اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں کے بعد آبنائے ہرمز سے متعلق دونوں ممالک کے مؤقف ایک بار پھر مرکزی اہمیت اختیار کر گئے ہیں، تاہم اس آبی گزرگاہ کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے فریقین کے درمیان مزید مذاکرات اور بنیادی اختلافات پر پیش رفت درکار ہوگی۔