امریکہ ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت میں توسیع نہیں چاہتا‘ہمارا صرف ایک مقصد ہے ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا:صحافیوں سے گفتگو
اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کر رہا ہے، امریکہ کا ایران سے غیر مشروط سرنڈر کروانے کا خواب پورا نہیں ہوا:ایرانی وزیر خارجہ
امریکیوں سے بات چیت نہیں ہورہی، ان کے پاس شکست ماننے اور شرائط قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں: ترجمان پاسداران انقلاب
واشنگٹن‘تہران(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے امریکہ کا حصہ قرار دینے کا اشارہ دے دیا ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر مشرق وسطیٰ کا ایک نقشہ شیئر کیا، جس میں آبنائے ہرمز کے گرد نمایاں کیے گئے علاقے پر ’’نیو یو ایس ٹیریٹری‘‘ یعنی ’’امریکا کا نیا علاقہ‘‘ درج تھا، ٹرمپ نے پوسٹ کے ساتھ اس دعوے کی کوئی تفصیلی وضاحت نہیں کی۔ایرانی حکام نے ٹرمپ کے آبنائے کو امریکی علاقہ قرار دینے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقیقت سے دور قرار دیا ہے۔غیرملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا ایرانی معاہدہ تو کرنا چاہتے ہیں، لیکن وہ ایسا معاہدہ نہیں کریں گے جسے میں ضروری سمجھتا ہوں۔ ہمارا وہاں موجود ہونے کا مقصد صرف ایک ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا اور ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت میں توسیع نہیں چاہتا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسرائیل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ کرنے کیلئے متحرک ہے۔تہران میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا کا ایران سے غیر مشروط سرنڈر کروانے کا خواب پورا نہیں ہوا، ایران کی بھرپور مزاحمت سے دشمن اپنے کسی بھی مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔عباس عراقچی نے کہا کہ ایران میں رجیم چینج اور تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں بھی ناکام ہوئیں، ترجمان پاسداران انقلاب بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہاہے کہ امریکیوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہورہی، سفارتی معاملات وزارت خارجہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق ترجمان پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا سے سفارتی ذرائع کے ذریعے بھی کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، سفارتی بات چیت کا فقدان امریکا کی جانب سے وعدہ خلافیوں کا نتیجہ ہے