تصور حسین شہزاد
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے باعث معاملات ابھی ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اسرائیل کیساتھ بھی جنگ بندی کا ذمہ امریکہ نے لیا اور حملوں کو سلسلہ تھم گیا۔ اس وقت دونوں ممالک میں بالواسطہ طور پر مذاکرات جاری ہے۔ دونوں اطراف سے مطالبات کی فہرستوں کو تبادلہ ہو رہا ہے اور اس طرح معاملات آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکہ کو چونکہ اپنے ’’سپر پاور‘‘ ہونے کا زعم ہے، تو اس کی گردن میں آیا زعم کا یہ سریا اس کیلئے مسائل بھی پیدا کر رہا ہے، جبکہ امریکی عوام اور ذمہ دار حکام ٹرمپ کے رویے سے نالاں بھی ہیں، کہ ٹرمپ کی حرکتوں کی وجہ سے امریکی سلامتی خطرے میں ہے۔ دوسری جانب جنگ کے دوران ایران نے اپنے پڑوس میں موجود امریکی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اس پر بعض ممالک نے شور کرنے کی کوشش کی کہ یہ حملہ ہمارے ملکوں پر کیا گیا، مگر ایران کے ٹھوس موقف کے سامنے ان کی نہ چل سکی اور عالمی برادری بالخصوص امت مسلمہ نے ان حملوں کو ایران کا حق قرار دیا، کہ یہ ان عرب ملکوں پر حملے نہیں، بلکہ امریکی اڈوں پر حملے ہیں اور زمینی حقائق بھی یہی ہیں۔ ان عربوں میں سب سے زیادہ یو اے ای متاثر ہوا۔ دوسری جانب ایرانی حکام کا موقف ہے کہ یو اے ای کوئی عرب ملک نہیں بلکہ منی اسرائیل ہے۔ اسرائیل نے خود اسرائیل کی بجائے اپنے دفاتر، تنصیبات اور مراکز دبئی، فجیرہ اور ابوظہبی میں بنائے ہوئے ہیں۔ اسرائیلیوں کا یہاں پر موجود ہونا، اس بات ثبوت ہے کہ اسرائیل نے سوچ سمجھ کر یہاں پر مراکز اور تنصیبات قائم کیں، تاکہ ایران سے محفوظ رہ سکیں۔ اسرائیلی نے چراغ (ایران) تلے اندھیرے کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی، مگر ایران اسرائیلیوں سے زیادہ باخبر نکلا، اور ایران نے یہاں چن چن کر اسرائیلی ٹھکانوں، ہوٹلوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت کچھ یہودیوں کے فرار کے بعد دبئی، ابوظہبی، فجیرہ سمیت شارجہ، العین اور دیگر ریاستیں ویران ہو گئی ہیں۔ دبئی میں کاروبار بری طرح متاثر ہیں، سیاحت کا باب مکمل کلوز ہو چکا ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہیں۔ اور بیرونی سرمایہ کار تیزی سے دبئی چھوڑ رہے ہیں۔ یو اے ای کی وزارت تعلیم و تربیت کی جانب سے حکم دیا گیا ہے کہ تمام تعلیمی ادارے بند کرکے آن لائن کلاسز لی جائیں۔ آج 5 مئی سے جمعہ 8 مئی تک یو اے ای میں نرسریوں اور تمام سرکاری و نجی سکولوں کے طلبہ و طالبات، اساتذہ اور انتظامی عملے کو ہدایت کی گئی ہے کہ ادارے بند کرے آن لائن کلاسز شروع کی جائیں۔ وزارت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آٹھ مئی کو صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، جس کے بعد اس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ یہی حالات سرمایہ کاروں کے ہیں، وہ تیزی سے نکل رہے ہیں۔ جبکہ پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد کو بھی ڈی پورٹ کیا جا رہا ہے کہ وہ ایران کی حمایت میں نکل سکتے ہیں، جبکہ دبئی کی تباہ ہوتی معیشت اور دیگر تخریبی معاملات کی ویڈیوز بنانے پر مکمل پابندی اور سوشل میڈیا پر شیئر کرنا اس سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے اور بہت سے عام شہریوں کو صرف اس لئے جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے کہ وہ حملوں میں متاثر ہونے والی املاک کی تصاویر اور ویڈیوز بنا رہے تھے۔ ادھر اسرائیل نے یو اے ای میں اپنا دفاعی نظام آئرن ڈوم بھی نصب کر رکھا ہے اور گزشتہ روز کے مبینہ ایرانی حملوں میں یو اے ای کی جانب سے تین میزائل فضا میں ہی تباہ کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے یہ میزائل آئرن ڈوم نے ہی تباہ کئے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے یو اے ای میں آئرن ڈوم جیسے دفاعی نظام کو نصب کرنے کا واضح مقصد یہی ہے کہ یہاں اسرائیلی تنصیبات ہیں اور اسرائیل نے اپنے دفاع کیلئے یہ ڈیفنس سسٹم لگایا ہے نا کہ یو اے ای کے عوام کی انہیں اتنی فکر ہے کہ اپنا مہنگا ترین نظام یہاں لگائیں گے۔ ادھر حملوں سے پہلے الجزیرہ نیوز نے رپورٹ دی کہ یو اے ای حکام کی جانب سے شہریوں کے موبائل فونز پر ایک ایمرجنسی الرٹ موصول ہوا، جس میں ممکنہ میزائل خطرے سے آگاہ کیا گیا۔ پیغام میں عوام کو ہدایت دی گئی کہ وہ فوری طور پر کسی محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں اور مزید ہدایات کے انتظار میں رہیں۔ حکومت کی جانب سے ایسے ایس ایم ایس کی موصولی پر عوام میں اضطراب دکھا گیا۔ جبکہ ہیکر کے ایک گروپ ’’حنظلہ‘‘ نے یواے ای کی فجیرہ بندرگاہ کے خلاف سائبر آپریشن کیا، سائبر آپریشن میں شپنگ، مالیات اور انفراسٹرکچر سے متعلق 4 لاکھ 30 ہزار سے زائد خفیہ دستاویزات نکالی گئی ہیں۔ گروپ کے مطابق ان خفیہ دستاویزات کو فجیرہ پر ٹارگٹڈ حملوں میں معاونت کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ ہیکر گروپ کا کہنا ہے کہ یواے ای، امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعاون ہماری نگرانی میں ہے اور یو اے ای کو اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ دوسری جانب ایران پر الزام عائد کیا گیا کہ ایرانی فوج نے فجیرہ بندرگاہ پر مزائل حملے کئے ہیں جس سے تیل کی تنصیبات میں آگ بھڑک اْٹھی ہے۔اس حوالے سے ایران نے تاحال حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، بلکہ ایران نے ان حملوں کی تردید کرتے ہوئے ان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ایران فوج کی جانب سے کہا گیا کہ یہ امریکی ایڈوینچرازم کا سلسلہ ہو سکتا ہے۔ زمینی حقائق بھی یہی ہیں کہ امریکہ خود ایسے حملے کرکے ایران پر الزام عائد کرکے ایران کیخلاف عربوں کو لا کھڑا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ بہت سے عرب ممالک نے امریکہ کی اس پالیسی کا ادراک کیا ہے اور ایران کیخلاف کوئی ردعمل دینے سے اعتراض کیا ہے۔ یو اے ای حکومت کی جانب سے ’’ایرانی حملوں‘‘ کا پیشگی الرٹ جاری کرنا بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یو اے ای کو امریکہ و اسرائیل کی جانب سے پیشگی بتا دیا گیا تھا کہ ’’ایران‘‘ حملے کرنے والا ہے، جبکہ یہ حملے ایران کے بقول خود امریکہ نے کروائے ہیں۔