شہزاد راجپوت
دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے جب بھی اسرائیل نے کوئی قدم اٹھایا ہے اس کا ہدف زیادہ تر مسلم دنیا رہی ہے۔ یہ پالیسی آج کوئی نئی نہیں بلکہ برسوں سے ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کے تحت جاری ہے۔ جس کا مقصد مسلم ممالک کو تقسیم کرنا، کمزور کرنا اور دنیا کے نقشے پر بے اثر کر دینا ہے۔فلسطین کے نہتے مسلمان سب سے بڑی گواہی ہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیل نے بموں، گولیوں اور محاصروں کے ذریعے ان کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ عورتیں، بچے اور بزرگ سب کو یکساں طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فلسطین کا ہر زخمی بچہ اور ہر شہید ماں اس بات کا اعلان ہے اسرائیل کی پالیسی انسانیت نہیں بلکہ مسلمانوں کو ختم کرنے کی پالیسی ہے۔صرف فلسطین ہی نہیں، لبنان، شام اور ایران جیسے ممالک بھی اسرائیلی جارحیت کی زد میں آتے رہے ہیں۔ کبھی فضائی بمباری، کبھی خفیہ آپریشن اور کبھی پابندیوں کی سیاست کے ذریعے ان ممالک کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسرائیل کا مقصد یہ ہے مسلم دنیا کے کسی ملک کو طاقت حاصل نہ ہو سکے۔اسرائیل اکیلا یہ سب کچھ نہیں کر رہا۔ اسے مغربی قوتوں کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ امریکہ اور یورپ کی خاموش حمایت نے اسرائیل کو مزید بے خوف بنا دیا ہے۔ عالمی ادارے بھی اکثر اسرائیلی مظالم پر آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ یہ دہرا معیار پوری مسلم دنیا کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔بدقسمتی یہ ہے مسلم ممالک خود بھی تقسیم کا شکار ہیں۔ کوئی ملک اپنے سیاسی مفاد کے لیے خاموش ہے، کوئی معاشی معاہدوں میں الجھا ہوا ہے اور کوئی اپنے داخلی مسائل میں گرفتار ہے۔ یہی کمزوری اسرائیل کی سب سے بڑی طاقت ہے۔اگر مسلم دنیا اب بھی خوابِ غفلت سے نہ جاگی تو اسرائیلی پالیسی آئندہ نسلوں کو بھی غلامی، کمزوری اور ظلم کے اندھیروں میں دھکیل دے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے مسلم ممالک اپنے اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں، مشترکہ پالیسی بنائیں اور عملی اقدامات کریں۔ صرف بیانات اور قراردادیں کافی نہیں ہوں گی۔