پختونخوا میں سیلابی ریلے ، راستے بند ،بیسیوں گھر تباہ،صوابی میں بادل پھٹنے سے مزید 20جاں بحق

پنجاب : کلائوڈ برسٹ،لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
 پنجاب میں بھی مون سون کا طاقتور سپیل شروع، ملتان، مری، فیصل آباد، چکوال، تحصیل کلرکہار، ڈیرہ غازی خان سمیت دیگر علاقوں میں نشیبی علاقے زیر آب،پختونخوا میں بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ،سکولز ایک ہفتہ بند ،گلیشیئرز پگھلنے سے گلگت ، آزاد کشمیر کو خطرہ 
لاہور پشاور، صوابی، راولپنڈی، اسلام آباد، مظفر آباد ( کرائم رپورٹر ،بیورو رپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک )ملک میں مون سون سیزن کے ایک اور طاقتور سپیل کا آغاز، خیبر پختونخوا کے مزید کئی اضلاع میں شدید بارشیں، سیلابی ریلے، راستے بند، صوابی میں بادل پھٹنے سے مختلف واقعات کے دوران 20 افراد جاں بحق، متعدد زخمی ہوگئے ، اموات میں اضافے کا خدشہ، 70 سے زائد محصور افراد کو سیلاب سے ریسکیو کر لیا گیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے وفاقی کابینہ کے ارکان کی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ ادھر پختونخوا حکومت نے بھی متاثرین کیلئے سیلاب زدگان فنڈ قائم کر دیا اور بالائی اضلاع کے سکول ایک ہفتے کیلئے بند کر دئیے ہیں جبکہ پنجاب میں بھی مون سون کا طاقتور سپیل شروع ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق صوابی کے علاقے داروڑی میں کلائوڈ برسٹ اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچادی، صوابی کی تحصیلوں رزڑ، لاہور اور ٹوپی میں طوفانی بارش کے بعد گھروں میں پانی داخل ہوگیا، متعدد افراد ریلے میں بہہ گئے، درجنوں گھر ڈوب گئے، شہری جان بچانے کیلئے گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے، سٹیفہ موڑ گدون میں 70 سے زائد محصور افراد کو ریسکیو کر لیا گیا، متاثرہ علاقوں میں بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہوگیا، ٹوپی بازار خوڑ میں کار سیلابی پانی میں بہہ گئی۔ ڈپٹی کمشنر صوابی نصر اللہ خان نے تصدیق کی ہے کہ دالوڑی گائوں میں کلائوڈ برسٹ سے کئی گھر ڈوب گئے۔ تحصیل ٹوپی کے گائوں سرکوئی پایاں میں مکان کی چھت گرنے سے 4 افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے۔دریں اثناء￿  وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کمشنر مردان اور دیگر حکام سے رابطہ کیا اور ڈپٹی کمشنر صوابی کو فوری متاثرہ علاقے میں پہنچنے اور ریسکیو سرگرمیوں کی نگرانی کی ہدایت کر دی۔ ادھر سوات کے بالائی علاقوں میں بارشوں کے بعد ندی نالوں میں پھر طغیانی آگئی۔ ہری پور میں کھولیاں بالا کے قریب شاہراہ قراقرم بند ہوگئی۔ پشاور میں نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ ایبٹ آباد میں سلہڈ میرا کے مقام پر پک اپ اور لنک روڈ سے موٹر سائیکل پانی میں بہہ گیا۔ نوشہرہ کی تحصیل پبی میں مکان کی خستہ حال چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق ہو گئے۔اسی طرح آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں بھی بارش نے تباہی مچادی، یونیورسٹی آف پونچھ کی خاتون لیکچرار گل لالہ گاڑی سمیت تراڑ کیمپس کے سامنے برساتی نالے میں بہہ گئی، گاڑی سمیت لاش نکال لی گئی۔ وادی نیلم کے ضلع اَٹھ مقام کی گریس ویلی میں سیاحوں کی گاڑی دریائے نیلم میں گرنے سے 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔دوسری جانب پنجاب میں ملتان، مری، فیصل آباد، چکوال، تحصیل کلرکہار، ڈیرہ غازی خان سمیت دیگر علاقوں میں بھی بارشوں سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ لینڈ سلائیڈنگ سے مری اور ایبٹ آباد کو ملانے والی شاہراہ بند ہو گئی۔ سیالکوٹ کی تحصیل پسرور کے گائوں مالو پتیال میں 16 سالہ لڑکا رحمن برساتی نالے میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا، پاکپتن میں دریائے ستلج میں نچلے درجے کا سیلاب ہے، آج سے لاہور سمیت دیگر شہروں میں بارش کا امکان ہے جس سے اربن فلڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کا رواں سپیل 23 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے۔چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کے مزید 2 سپیل آ رہے ہیں جو اس سے بھی زیادہ سخت ہیں، گلیشیئرز پگھلنے سے گلگت اور آزاد جموں و کشمیر کو خطرہ ہے، اسلام آباد اور راولپنڈی بھی متاثر ہوگا۔ وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انعام حیدر نے کہا کہ حالیہ مون سون سیزن میں اب تک 670 افراد جاں بحق اور ایک ہزار کے قریب افراد زخمی ہو چکے، 80 سے 90 افراد لاپتا ہیں، ان کی تلاش جاری ہے، وزیر اعظم کی ہدایت پر 400 سے زائد مقامات پر ریلیف کیمپس قائم کر دئیے گئے ہیں، وزیر اعظم نقصانات پر جلد نیشنل پیکیج کی منظوری دیں گے۔ اس موقع پر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث کلائوڈ برسٹ کی صورتحال پیدا ہوئی، 7 سے 8 ملک ماحول کو تباہ کر رہے ہیں، انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے قومی سطح پر بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مجموعی طور پر سب سے زیادہ تباہی خیبر پختونخوا میں ہوئی جہاں 390 اموات رپورٹ ہو چکیں، پنجاب میں 164 افراد، سندھ میں 28، بلوچستان 20، گلگت بلتستان 32، آزاد کشمیر میں اب تک 15 افراد جاں بحق ہو چکے۔ ضلع بونیر میں اموات کی تعداد 222 تک جا پہنچی ہے اور لاپتہ افراد کی تلاش بھی جاری ہے۔علاوہ ازیں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے پوٹھوہار خطے میں شدید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں بھی بونیر جیسی تباہی کا خدشہ ہے۔ راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ 72 گھنٹے میں پوٹھوہار میں سیلاب، مری میں شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ ہے۔ادھر وزیر اعظم شہباز شریف نے خیبر پختونخوا کے سیلاب متاثرین کیلئے وفاقی کابینہ کے ارکان کی ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اعلیٰ سطح اجلاس میں وفاقی اداروں کو امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی ہدایت کر دی۔ شہباز شریف نے کہا کہ مشکل وقت میں صوبہ اور وفاق کی سرحدیں نہیں، سب کا مقصد صرف متاثرین کی مدد اور بحالی ہونی چاہیے، این ایچ اے کو شاہراہوں کی مرمت کے دوران صوبائی یا قومی شاہراہوں میں فرق نہیں کرنا چاہیے، امدادی راستے کھولنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ وفاق جاں بحق افراد کے اہل خانہ اور متاثرین کو وزیرِ اعظم پیکج کے تحت مالی امداد فراہم کرے گا۔ شہباز شریف نے وزارت خزانہ کو ہدایت کی کہ این ڈی ایم اے کو ضروری وسائل فراہم کیے جائیں اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بھی متاثرین کی مدد کیلئے فعال کیا جائے۔دوسری طرف وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے ایک ماہ، کابینہ ممبران نے 15 دنوں کی تنخواہیں سیلاب زدگان کو دینے کا فیصلہ کر لیا، ممبران صوبائی اسمبلی 7 دن کی تنخواہ جمع کرائیں گے، گریڈ 17 سے اوپر کے صوبائی سرکاری ملازمین 2 دن جبکہ گریڈ 16 تک کے ملازمین 1 دن کی تنخواہ سیلاب زدگان کیلئے جمع کرائیں گے۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا کہ فنڈ کی ایک ایک پائی کا حساب رکھا جائے گا، مشکل کی اس گھڑی میں ہم سب کو دل کھول کر متاثرین کی مدد کرنی چاہیے۔ جبکہ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کیلئے معاوضے کا پیکیج دگنا کر دیا، جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10،10 لاکھ کی بجائے 20،20 لاکھ روپے دئیے جائیں گے، معاوضوں کی ادائیگی کا باضابطہ آغاز کر دیا، متاثرہ اضلاع کو 85 کروڑ روپے جاری کئے جا چکے ہیں۔دریں اثناء خیبر پختونخوا حکومت نے بالائی علاقوں کے تمام سرکاری و نجی تعلیمی ادارے آج 19 اگست سے 25 اگست تک کیلئے بند کر دئیے ہیں۔بالائی پنجاب میں کلائوڈ برسٹ اور دیگر اضلاع میں ممکنہ سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کے پیش نظر وارننگ الرٹ جاری کردیا گیا۔ ترجمان سیف سٹیز کے مطابق پنجاب بھر میں قائم سمارٹ سیف سٹیز میں فلڈ مانیٹرنگ کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ مری، راولپنڈی اور دیگر اضلاع میں ورچوئل پیٹرولنگ افسران کی 24/7 خصوصی نگرانی جاری ہے۔ ترجمان کے مطابق سیف سٹی کا آرٹیفیشل انٹیلیجنس سسٹم ہاٹ سپاٹ ایریاز اور چوکنگ پوائنٹس کی نشاندہی کررہا ہے۔ راولپنڈی میں نالہ لئی اور شہر کے دیگر نالوں کی لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ سیف سٹی کیمروں کے ذریعے کی جارہی ہے۔ صوبے بھر میں 600 سے زائد جدید کیمروں سے سیلابی صورتحال کی براہ راست نگرانی ہورہی ہے جبکہ پی ڈی ایم اے کو رئیل ٹائم الرٹس فراہم کیے جارہے ہیں۔ سیف سٹی مراکز بارش، اربن فلڈنگ اور پانی جمع ہونے کے خدشات پر بروقت اطلاعات بھی فراہم کررہے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، ندی نالوں اور بجلی کے کھمبوں کے قریب جانے سے اجتناب کریں تاکہ کسی بھی جانی نقصان سے بچا جاسکے۔