مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالعاطی نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ سے فلسطینیوں کی آبادی کا انخلا مصر کے لیے ایک سرخ لکیر ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق بدر عبدالعاطی نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا کہ مصر اپنی قومی سلامتی کے خلاف کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ قاہرہ مختلف سفارتی چینلز کے ذریعے فلسطینی عوام کے مسائل کو کم کرنے اور انسانی امداد پہنچانے کے لیے سرگرم ہے۔وزیرِ خارجہ نے کہا کہ غزہ کی آبادی کے انخلا کے منصوبے کو مصر نہ تو قبول کرے گا اور نہ ہی اس میں شریک ہوگا۔ ان کے مطابق فلسطینیوں کو اپنی زمین سے بے دخل کرنا دراصل انہیں "یکطرفہ ٹکٹ" دینے کے مترادف ہے، جس کے بعد ان کی ریاستی جدوجہد مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔
انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وقتاً فوقتاً ایسے اشارے سامنے آئے ہیں جن میں فلسطینیوں کو غزہ سے نکال کر دیگر ممالک منتقل کرنے کے منصوبے کی بات کی گئی۔ تاہم اسرائیل کی جانب سے اس جنگ کے بعد کے سیاسی منظرنامے کی کوئی واضح تفصیلات پیش نہیں کی گئیں۔بدر عبدالعاطی نے مزید کہا کہ مصر ہمیشہ سے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور ان کی ریاستی جدوجہد کی حمایت کرتا آیا ہے، اور قاہرہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔