لاہور : وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چائلڈ لیبر کے خلاف عالمی دن کے موقع پر جاری اپنے خصوصی پیغام میں بچوں سے جبری مشقت کو ناقابل برداشت اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ "بچے میری ریڈ لائن ہیں" اور پنجاب وہ پہلا صوبہ ہے جہاں چائلڈ پروٹیکشن پالیسی نافذ کی گئی ہے۔
مریم نواز کا مؤقف:
"چائلڈ لیبر ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی""بچوں کے ہاتھوں میں اوزار، اینٹیں یا برتن نہیں بلکہ قلم، کتاب اور لیپ ٹاپ ہونے چاہئیں۔""کم سنی میں مشقت بچوں کے خواب چھین لیتی ہے اور قوم کے مستقبل کو تاریک بناتی ہے۔"
حکومت پنجاب کے اقدامات:
چائلڈ پروٹیکشن پالیسی:
پنجاب ملک کا پہلا صوبہ ہے جہاں یہ پالیسی باضابطہ طور پر نافذ کی گئی ہے۔
ورچوئل چائلڈ سیفٹی سٹیشن کا قیام:
یہ پلیٹ فارم بچوں کے حقوق کے تحفظ اور انہیں درپیش خطرات کی فوری نشاندہی کے لیے قائم کیا گیا ہے۔
جبری مشقت سے نجات اور تعلیم کی جانب رجحان:
پنجاب حکومت ایسے بچوں کو دوبارہ تعلیمی دھارے میں لانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ کا وژن:
مریم نواز نے واضح کیا:"ہم ایسا پنجاب چاہتے ہیں جہاں ہر بچہ مزدور نہیں، طالبعلم ہو، جہاں ہر بچہ محفوظ، تعلیم یافتہ اور بااختیار ہو۔ اگر ہم اپنے بچوں کو محفوظ نہیں بنا سکتے تو قوم کا مستقبل کبھی محفوظ نہیں ہو سکتا۔"انہوں نے کہا کہ چائلڈ لیبر محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے، اور یہ باشعور معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔