سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
امریکاکامؤقف ہے کہ ایران کاجوہری پروگرام دنیاکیلئے خطرہ بن چکاہے اورایران نہ صرف جوہری افزودگی بندکرے بلکہ اپنی علاقائی پراکسی ملیشیازجیسے حزب اللہ اورحوثی گروہوں کی حمایت بھی ترک کرے۔جہاں تک اسرائیل کاتعلق ہے،اس نے واضح کیاہے کہ وہ وہ ایران کی جوہری صلاحیت کے مکمل خاتمے کے سواکچھ قبول نہیں کرے گا۔نیتن یاہوکاکہناہے کہ وہ’’اس سے اتفاق کریں گے جیسالیبیامیں کیاگیاتھا۔یہ لیبیاکے شہیدرہنمامعمرقذافی کے2003میں پابندیاں ہٹانے کے بدلے میں اپنے پورے جوہری پروگرام کوختم کرنے کے فیصلے کاحوالہ ہے لیکن ایران کااس نظیرپرعمل کرنے کاامکان نہیں۔ایران نے اپنی جوہری سرگرمیوں کواس قدرمنتشراورمحفوظ مقامات پرمنتقل کردیاہے کہ ایک محدودحملے سے ان کومکمل طور پرختم کرناناممکن ہوگیاہے۔اس کی ٹیکنیکل مہارت میں گذشتہ دہائی میں غیرمعمولی اضافہ ہواہے۔
اسرائیل نے جوہری پروگرام کاکبھی باضابطہ اعتراف نہیں کیالیکن ماہرین کامانناہے کہ اسرائیل کے پاس80سے90تک جوہری ہتھیارموجودہیں اوراس نے ڈائیمونانیوکلیئرری ایکٹر(نیگیوصحرامیں)میں یہ صلاحیت پیداکی ہے۔اسرائیل کے پاس ٹرائی ایڈکی بھی صلاحیت بھی موجودہے۔زمینی فرق یہ ہے کہ ایران ابھی جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ اسرائیل مبہم جوہری طاقت اورمثرڈیٹرنس کاحامل ملک بن چکاہے۔اس طرح اسرائیل کی جوہری طاقت ایک خفیہ مگرمضبوط حقیقت ہے۔
ٹرمپ نے اقتدارسنبھالتے ہی ایران پر’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘کی پالیسی کااعلان کرتے ہوئے ایرانی تیل کے خریدارممالک(جیسے چین،بھارت)کوایرانی تیل خریدنے پر پابندیوں کااعلان کردیاہے جبکہ دوسری طرف ایران کوخلیجی ملک کے سفیرکے توسط سے خط بھیج کرمذاکرات کی پیشکش بھی کی ہے جسے ایرانی صدرمسعودنے توقبول کرلیاہے لیکن ایرانی روحانی سربراہ آیت اللہ خامنہ ای کامؤقف ہے کہ جوہری ڈیٹرنٹ ہماری سلامتی کی ضمانت ہے۔
امریکااورایران کے درمیان عمان میں براہ راست خفیہ مذاکرات ہوئے ہیں لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ان مذاکرات میں امریکانے دواہم شرائط رکھی ہیں کہ ایران اپناجوہری پروگرام مکمل ختم کرے اوردوسراحزب اللہ اورحوثیوں کی حمایت بندکی جائے جبکہ ایران نے جوابی شرائط کے طورپرامریکاسے تمام پابندیاں اٹھانے کااوردوسراجوہری پروگرام پر تحقیقات بندکرنے کامطالبہ کیا۔یہی وجہ ہے کہ اب تک مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔
خطے میں ممکنہ عالمی جنگ کامنظرنامہ اس قدرخوفناک نظرآتاہے کہ جس سے عالمی جنگ کے یقینی آثارکوروکنا ممکن نہیں رہے گا۔اگرایران پرحملہ ہوتاہے توایران یقیناجوابی کاروائی
کے طورپرخطے میں موجودامریکی اڈوں،اسرائیل،سعودی عرب اور اتحادیوں پرمیزائل حملے کرسکتاہے اورپراکسی وارکاآغازہوتے ہی حزب اللہ،حماس،حوثی باغی اوردیگرگروہ بیک وقت مختلف محاذکھول سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اپنے اتحادیوں کی مددسے ان پراکسیز کے خاتمے کیلئے باقاعدہ جنگ شروع کر چکاہے اوراپنی دانست میں ان پراکسیزکو اگر ختم نہیں توانتہائی کمزورکرنے کادعوی ضرورکررہاہے جوبظاہرنظربھی آرہاہے۔
لیکن اس پراکسی جنگ کے نتیجے تیل کی رکاوٹ میں خلیجِ فارس(خصوصا ًآبنائے ہرمز)کی بندش سے دنیاکی تیل کی20ترسیل رک سکتی ہے۔اگرایران پرحملہ ہوتاہے یااس نے جوہری ہتھیارتیارکرنے کی کوشش کی،تومشرق وسطی میں ایک دہائی طویل جنگ چھڑسکتی ہے۔تیل کی ترسیل رک سکتی ہے،جس سے عالمی معیشت متاثرہوگی۔چین اورروس ایران کی حمایت میں کھڑے ہوسکتے ہیں،جس سے امریکا کے ساتھ براہِ راست تصادم کاخطرہ پیداہوجائے گا۔نیٹوممالک دباؤکاشکارہوں گے کہ آیاوہ امریکاکا ساتھ دیں یاغیرجانبدار رہیں جبکہ ٹرمپ یورپی یونین اورنیٹوکے خلاف اپنی پالیسیوں کااعلان بھی کرچکے ہیں۔اس سلسلے میں ڈنمارک کوگرین لینڈجزیرے پراپنے قبضے کی دہمکی بھی دے چکے ہیں۔ایران کوسفارتی یاحتی کہ فوجی سطح پرچین اورروس کی مداخلت سے مددمل سکتی ہے،جس سے صورتحال عالمی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
خطے میں بالخصوص اوراقوام عالم میں بالعموم شدیدتشویش اورخدشات میں اضافہ ہورہاہے کہ اگرمذاکرات ناکام ہوگئے تواس کے نتائج صدیوں تک مرتب ہوں گے بلکہ دنیا کے تاریک ہونے کے آثارنظرآرہے ہیں۔ٹرمپ نے ایران کوواضح دہمکی دی ہے کہ اگر اس نے اپنی ایٹمی صلاحیت کومکمل طورپرختم نہیں کیاتواس پرایسی بمباری کی جائے گی کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملے گی جس کے جواب میں ایرانی رہبراعلی اوردیگرایرانی حکام نے بھی واضح دہمکیوں کاجواب اسی زبان میں دیاہے۔
اسرائیل ایران کی زیرزمین جوہری تنصیبات پرحملہ کرسکتاہے مگراس کیلئے ممکنہ طورپرامریکی فضائیہ اورفوجی اڈوں کی ضرورت ہوگی مگرایران اپنے ردعمل میں فوری جوابی کاروائی کے طورپراپنی پراکسیزکے ذریعے خطے بھرمیں حملے کر سکتاہے،بالخصوص اسرائیل،سعودی عرب اورامریکی تنصیبات پرجس میں قطرمیں دنیاکے سب سے بڑے امریکی بحری اڈے کو نشانہ بنایاجاسکتاہے۔جس کے بعدلبنان،شام،عراق،یمن اورخلیجی ممالک ایک علاقائی جنگ کامیدان بن سکتے ہیں اورخطے میں ہمہ گیرجنگ شروع ہوجائے گی۔امریکا،چین اور روس کے درمیان کشیدگی میں اضافہ عالمی جنگ میں بھی تبدیل ہوسکتاہے۔خطے میں جنگ کی وجہ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدیداضافہ ہوجائے گااوران ملکوں کے شہری اپنی جان بچانے کیلئے دوسرے ملکوں کارخ کریں گے اورعالمی طورپر مہاجرین کے بے کراں سیلاب اوربحران کوروکناناممکن ہوگا۔
دنیااس وقت سفارتی ناکامی،فوجی جارحیت اورجوہری خطرے کے نازک موڑپرکھڑی ہے۔اگرجلداورمثرسفارت کاری نہ کی گئی توایک علاقائی تنازعہ تیسری عالمی جنگ کی شکل اختیار کرسکتاہے۔اس صورت حل سے بچنے کیلئے فوری اقدامت کرتے ہوئے ایسے سفارتی راستے اورتجاویزپرعمل کرناہوگاجس سے انسانی تباہی کے اس ہولناک مناظرکے خطرات کودورکیاجاسکے۔اس کیلئے ضروری ہے کہ:
٭ایران کومشروط طورپرافزودگی کی اجازت دے کر’’آئی اے ای اے‘‘کی مکمل نگرانی میں رکھاجائے اور اس کے ساتھ ہی اسرائیل کوبھی ان پابندیوں پرآمادہ کیاجائے کہ’’آئی اے ای اے‘‘کی مکمل نگرانی میں اپنی تمام ایٹمی تنصیبات کو نہ صرف معائنہ کیلئے کھول دے بلکہ عالمی ضمانت دی جائے کہ وہ ایران پرفوجی کارروائی سے گریزکرے گااورایسی ہی شرائط کاایران کوبھی پابندبنایاجائے۔
٭خطے میں امریکا،اسرائیل اوراس کے مغربی اتحادیوں کی یکطرفہ پابندیاں غیرقانونی قراردی جائیں اوراقوام متحدہ کوایران پرپابندیوں کاجائزہ لیتے ہوئے اس کافیصلہ کرنا چاہئے کہ کیوں نہ اسرائیل جواب تک لاکھوں فلسطینیوں،اوردیگرپڑوسیوں ممالک کے نہتے افراد کواپنی خونخوارپالیسیوں کے تحت ہلاک کرچکاہے،اس کامکمل مواخذہ کیاجائے جبکہ عالمی عدالت انصاف تواسرائیل کوپہلے ہی غیرقانونی ریاست قراردے چکی ہے۔
٭امریکااوراسرائیل کی طرف سے فوجی حل مسلط کرنے کی تمام کوششوں کوناکام بنانے کیلئے یورپی یونین(جرمنی،فرانس)اور چین کی ثالثی سے’’جے سی پی اواے‘‘معاہدہ کوبحال کرکے اقوام عالم کوان خطرات سے محفوظ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔
٭روس اورچین سے رابطہ کرکے مضبوط ضمانتیں فراہم کرکے ایران کومعاشی مراعات دینے پررضامندکرنے کی کوششیں کی جانی چاہئیں۔
٭اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکی طرف سے"لیبیاجیسے حل"کی بھرپورمخالفت کرتے ہوئے اسے متنبہ کیاجائے اورایسی صورتحال میں روس اورچین سمیت دیگرممالک کی طرف سے اسرائیل کوفوری ردعمل کیلئے متنبہ کیاجائے۔
٭اب وقت آگیاہے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے مطابق اقوام متحدہ اقدامات کرتے ہوئے ان تمام ممالک پرپابندیاں لگائے جوکھلم کھلاعالمی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں۔
یادرہے کہ دنیاآج ایک انتہائی نازک موڑپرکھڑی ہے۔اگرسفارت کاری ناکام ہوئی،تو مشرق وسطی کابحران صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ یہ تازعہ تیسری عالمی جنگ میں تبدیل ہو سکتاہے۔اگرچہ دونوں فریق جنگ سے گریزکرناچاہتے ہیں لیکن عدم اعتماداورسخت گیرمقف کی وجہ سے تصادم کاخطرہ موجودہے۔عالمی برادری کوچاہیے کہ فوری سفارتی اقدامات کے ذریعے اس بحران کوسلجھائے،کیونکہ جوہری جنگ کاکوئی فاتح نہیں ہوتا۔