عتیق چوہدری
کراچی، جو کبھی اپنی روشنیوں اور زندگی کی تپش کے لیے جانا جاتا تھا آج اپنی ہی بے حسی اور انتظامی نااہلی کی آگ میں جل کر راکھ ہو رہا ہے۔ اسے "شہرِ ناپْرساں" نہ کہیں تو اور کیا کہیں جہاں بلدیہ ٹاؤن سے شروع ہونے والا راکھ کا سفر گل پلازہ کی خاک تک آن پہنچا ہے مگر نہ تو حکمرانوں کے کانوں پر جوں رینگی اور نہ ہی نظامِ عدل کی زنجیر ہلی۔ صدر کے قلب میں واقع گل پلازہ کی حالیہ آتشزدگی محض ایک فنی خرابی یا شارٹ سرکٹ کا نتیجہ نہیںبلکہ یہ اس انسانی بھینٹ کا تسلسل ہے جو یہ شہر ہر چند ماہ بعد کسی نہ کسی بلند و بالا عمارت کی صورت میں وصول کرتا ہے۔ جب ایک تجارتی مرکز کے 16 میں سے 13 دروازے بند ہوں اور ہنگامی اخراج کے راستوں پر منافع خوروں کے گودام بنے ہوں، تو اسے حادثہ کہنا دراصل اس مجرمانہ غفلت پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے جو یہاں کے باسیوں کو روزانہ موت کے جبڑے میں دھکیل رہی ہے۔ یہ آگ دراصل اس کرپٹ ڈھانچے نے لگائی ہے جہاں سیفٹی سرٹیفکیٹ بکتے ہیں، جہاں این او سیکی قیمت انسانی جان سے زیادہ ہے اور جہاں انکوائری رپورٹوں کا ڈھیر اتنا بلند ہو چکا ہے کہ اب ان میں سچائی تلاش کرنا بھی ناممکن معلوم ہوتا ہے۔ آگ کے شعلے تو بجھ گئے لیکن وہ تلخ سوالات اب بھی فضا میں معلق ہیں جو ہر بڑے حادثے کے بعد اٹھتے ہیں اور پھر مصلحتوں کی نذر ہو کر سرکاری فائلوں کی گرد میں دب جاتے ہیں۔گل پلازہ کی آگ نے ایک بار پھر ان پرانے زخموں کو تازہ کر دیا ہے جو ماضی کے ہولناک سانحات نے کراچی کے باسیوں کو دیے تھے۔ اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو کراچی میں آتشزدگی کی تاریخ انسانی لہو سے رنگین نظر آتی ہے۔ ستمبر 2012ء میں بلدیہ ٹاؤن کی علی انٹرپرائزز فیکٹری کی آگ نے 260 سے زائد مزدوروں کو زندہ جلا دیاجو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا صنعتی سانحہ تھا۔ اسی طرح نومبر 2023ء میں راشد منہاس روڈ پر واقع آر جے شاپنگ مال کی آگ میں 11 افراد لقمہ اجل بنے جبکہ 2021ء میں کوآپریٹو مارکیٹ کی آگ نے اربوں روپے کا سرمایہ اور سینکڑوں دکانیں راکھ کر دیں۔ عائشہ منزل کے قریب رہائشی کمپلیکس کی آگ ہو یا ریجنٹ پلازہ کا خوفناک منظر، ان تمام واقعات میں ایک قدرِ مشترک "مجرمانہ غفلت" اور حفاظتی اقدامات کا فقدان رہا ہے۔گل پلازہ، جو 1800 مربع فٹ پر محیط ہے اور جہاں 1200 سے زائد دکانیں موجود ہیں وہاں آمد و رفت کے 16 دروازوں میں سے 13 کا بند ہونا محض ایک تکنیکی تفصیل نہیں بلکہ ایک اجتماعی جرم ہے۔ ایمرجنسی ایگزٹس کا نہ ہونا یا ان کا مقفل ہونا اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہاں قانون کی پامالی کو اپنا حق سمجھا جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ کراچی کا انتظامی ڈھانچہ پتھر کے دور کی عکاسی کر رہا ہے۔ دنیا کے پانچ بڑے میٹروپولیٹن شہروں نیویارک، ٹوکیو، لندن، دبئی اور سنگاپورکے حفاظتی نظام کا موازنہ کریں تو زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ وہاں 'نیشنل فائر پروٹیکشن ایسوسی ایشن' (NFPA) کے کوڈز لاگو ہیں؛ ٹوکیو اور سنگاپور میں عمارتیں سینٹرل مانیٹرنگ سسٹم سے جڑی ہوتی ہیں جہاں دھواں اٹھتے ہی خودکار الارم بج جاتا ہے۔ دبئی میں ڈرون ٹیکنالوجی اور سمارٹ سنسرز 30 سیکنڈز میں آگ کی نشاندہی کر دیتے ہیں جبکہ کراچی میں فائر بریگیڈ کو یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ پانی کہاں سے آئے گا۔انتظامیہ کی نااہلی کا عالم یہ ہے کہ گل پلازہ کے ریسکیو آپریشن کے دوران سرکاری طور پر یہ اعتراف کیا گیا کہ فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لیے شہر سے 25 میل دور صفورا چوک اور نیپا کے ہائیڈرنٹس سے
ٹینکروں کے ذریعے پانی منگوایا جا رہا تھا۔ پورے ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں جو شہر کا تجارتی مرکز ہیفائر بریگیڈ کے پاس پانی کا کوئی بڑا ٹینک موجود نہیں تھا۔ ریڈ لائن منصوبے کے ادھورے کام اور ٹریفک کے رش نے رہی سہی کسر پوری کر دی جس سے پانی پہنچنے میں گھنٹوں تاخیر ہوئی۔ اس سے بھی بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ فائر فائیٹرز جب تیسری منزل پر آگ بجھانے کی کوشش کر رہے تھے تو خستہ حال سیڑھیاں ٹوٹنے سے وہ خود زخمی ہو کر گر پڑے۔ جدید ٹیکنالوجی، تھرمل کیمرے اور آکسیجن ماسک تو دور کی بات، ہمارا عملہ آج بھی پانی اور فوم کے روایتی چھڑکاؤ پر انحصار کر رہا ہے۔پاکستان میں انکوائری رپورٹس کا کلچر دراصل معاملے کو ٹھنڈا کرنے اور عوام کے غم و غصے کو دبانے کا ایک حربہ بن چکا ہے۔ ماضی میں جسٹس محمد علی مظہر نے 2017ء میں آتشزدگی کے ایک واقعے کے بعد جامع فیصلہ دیا تھا مگر ان عدالتی احکامات پر آج تک عملدرآمد نہیں ہوا۔ کمشنر کراچی کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات اکثر بے معنی ثابت ہوتی ہیں اصل ضرورت ہائی کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل ایک آزاد ٹریبونل کی ہے جو جڑ سے اس کرپشن کا خاتمہ کرے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)، کے الیکٹرک کا الیکٹرک ڈیپارٹمنٹ اور فائر بریگیڈ کا نظام مکمل طور پر تنزلی کا شکار ہے۔این او سی کی فروخت کا گھناؤنا کاروبار انسانی زندگیوں کے سودے پر چل رہا ہے، جہاں غیر قانونی تعمیرات کو سیاسی دباؤ یا رشوت کے عوض نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔دم گھٹنے اور بے بسی کی حالت میں جان دینے والے یہ افراد محض اعداد و شمار نہیں یہ پورے خاندان تھے جن کے خواب اس آگ کی نذر ہو گئے۔ اس سانحے کی ذمہ داری صرف حکومت پر نہیں بلکہ دکانداروں اور تاجر انجمنوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ یہ انجمنیں ہر دکان سے ماہانہ مینٹیننس کے نام پر بھاری رقوم وصول کرتی ہیں، مگر یہ پیسہ کہاں جاتا ہے؟ اگر ان پیسوں سے اسپرنکلر سسٹم اور فائر الارم لگائے جاتے تو شاید آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ یہاں مینٹیننس کا مطلب صرف بجلی کے بلب بدلنا رہ گیا ہے انسانی جان کی حفاظت کبھی ترجیح نہیں رہی۔ گل پلازہ کا سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ کراچی کے بوسیدہ انتظامی ڈھانچے اور مجرمانہ نااہلی کا کھلا اشتہار ہے۔ وقت آگیا ہے کہ سیاسی الزام تراشی اور ردی کی ٹوکری کی نذر ہونے والی کاغذی کارروائیوں کے بجائے آپریشنل احتساب کیا جائے۔ اب یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ شہر کی ہر بلند و بالا عمارت کا تھرڈ پارٹی سیفٹی آڈٹ کروا کر غیر محفوظ عمارتوں کو فوری سیل کیا جائے اور ناقص کلیئرنس دینے والے افسران پر اقدامِ قتل کے تحت مقدمات چلائے جائیں۔ کراچی اب مزید لاشیں اٹھانے اور راکھ ڈھیر ہونے کی سکت نہیں رکھتا۔ حکمران اس سانحے کو آخری انتباہ سمجھیں، ورنہ تاریخ گواہ رہے گی کہ ہوسِ زر اور ریاستی بے حسی نے "روشنیوں کے شہر" کو مستقل طور پر "سانحات کے شہر" میں بدل دیا
بقول حسن عابدی
شہر نا پرساں میں کچھ اپنا پتہ ملتا نہیں
بام و در روشن ہیں لیکن راستہ ملتا نہیں
حاکموں نے شہر کے اندر فصیلیں کھینچ دیں
دن میں بھی اب کوئی دروازہ کھلا ملتا نہیں
اتنے بے پروا ارادے اتنے بے توفیق غم
ہاتھ اٹھتے ہیں مگر حرف دعا ملتا نہیں