نیا اسلامی سال: پیغامِ ہجرت اور تجدیدِ عہد

سید احسن محمود شاہ 
اسلامی سال کا آغاز محض تاریخ کے ایک نئے ورق کا کھلنا نہیں بلکہ یہ ایمان، عمل، قربانی، صبر، استقامت اور اللہ تعالی سے تعلقِ بندگی کی تجدید کا عظیم موقع ہے۔ جب ماہِ محرم الحرام کی آمد کے ساتھ نیا ہجری سال شروع ہوتا ہے تو ایک مسلمان کے دل میں ہجرتِ نبویؐ کی یاد تازہ ہوجاتی ہے، وہ ہجرت جس نے تاریخِ انسانیت کا رخ موڑ دیا، ظلمتوں کو نور میں بدل دیا اور بکھری ہوئی انسانیت کو ایک عظیم تہذیب و تمدن عطا کیا۔
ہجری سال کی بنیاد کسی بادشاہ کی تاج پوشی، کسی جنگ کی فتح یا کسی قوم کی سیاسی برتری پر نہیں رکھی گئی بلکہ اس عظیم واقعے پر رکھی گئی جس نے اسلام کو ایک مضبوط معاشرے اور مکمل ریاست کی شکل عطا کی۔ یہ واقعہ ہجرتِ رسول ؐ ہے، جو قربانی، اخلاص، توکل اور دعوتِ دین کے روشن ترین اسباق اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ آئیے ! سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ ہجرت کا حقیقی مفہوم کیا ہے ؟ 
عام طور پر ہجرت سے مراد ایک جگہ چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہونا لیا جاتا ہے، لیکن شریعت کی نظر میں ہجرت کا مفہوم اس سے کہیں وسیع تر ہے۔ رسول اللہ ؐنے فرمایا:"المہاجر من ہجر ما نہ اللہ عنہ"۔حقیقی مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جن سے اللہ تعالی نے منع فرمایا ہے۔"
لہذا ہجرت صرف مکان کی تبدیلی کا نام نہیں بلکہ کردار کی تبدیلی، گناہوں سے دوری، خواہشاتِ نفس پر قابو پانے اور اللہ تعالی کی اطاعت کی طرف لوٹ آنے کا نام ہے۔ ہر وہ شخص جو معصیت سے اطاعت کی طرف، غفلت سے بیداری کی طرف اور گمراہی سے ہدایت کی طرف سفر کرے، وہ درحقیقت ہجرت کے پیغام کو زندہ کرتا ہے۔
یاد رکھیں ! ہجرتِ نبوی ?: قربانی اور استقامت کا روشن باب ہے۔ رسول اکرم ؐنے مکہ مکرمہ میں تیرہ برس تک توحید کی دعوت دی۔ آپ ؐ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ظلم و ستم، طعن و تشنیع، معاشی بائیکاٹ اور جسمانی اذیتوں کا سامنا کیا، مگر دعوتِ حق سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹے۔
جب کفارِ مکہ نے آپ ? کے قتل کا منصوبہ بنایا تو اللہ تعالی کے حکم سے آپ ؐنے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ یہ ہجرت بظاہر ایک سفر تھا لیکن حقیقت میں یہ ایمان کی فتح، باطل کی شکست اور حق کی سربلندی کا اعلان تھا۔ غارِ ثور کا وہ منظر تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ جگمگاتا رہے گا جب دشمن قدموں تک پہنچ چکے تھے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو فکر لاحق ہوئی، تو رسول اللہ ؐ نے فرمایا:لا تحزن ِن اللہ معنا"۔ غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔" یہ الفاظ ہر دور کے مسلمانوں کو یقین، توکل اور استقامت کا درس دیتے ہیں کہ جب بندہ اللہ کے راستے پر ثابت قدم رہتا ہے تو اللہ تعالی کی مدد اس کے شاملِ حال ہوتی ہے۔
بزرگان کرام اور سلفِ صالحین نے ہجرت کے پیغام کو محض تاریخی واقعہ نہیں سمجھا بلکہ اپنی عملی زندگی کا حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک ہجرت کا مطلب تھا کہ انسان اپنے نفس کی خواہشات کو چھوڑ کر اللہ تعالی اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کو اختیار کرے۔خلفیہ دوئم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے:اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسولؐ کے لیے ہوگی، اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ؐ ہی کے لیے شمار ہوگی۔" یہی وجہ ہے کہ بزرگان کرام اور سلفِ صالحین نے اپنی پوری زندگیاں اخلاص، تقوی، اتباعِ سنت اور خدمتِ دین کے لیے وقف کر رکھی تھیں۔
اب جبکہ نیا سال شروع ہونے والا ہے۔ نیا اسلامی سال ہمیں ہجرت کے عظیم الشان واقعہ کی بھی یاد دلاتا ہے اور محاسبہ نفس کی ترغیب بھی دلاتا ہے اسلامی سال کا آغاز ہمیں سب سے پہلے اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ایک سال گزر گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ زندگی کا ایک۔۔۔۔۔باب بند ہوگیا۔ نہ جانے کتنے لوگ گزشتہ سال ہمارے درمیان موجود تھے مگر آج وہ قبروں میں جا چکے ہیں۔ نہ جانے ان کی کتنی امیدیں تھیں ، منصوبے اور خواب وقت تھے جو سب کے ساتھ ختم ہوگئے۔
ایسے میں ایک مومن اپنے دل سے سوال کرتا ہے: کیا میں گزشتہ سال کے مقابلے میں اللہ کے زیادہ قریب ہوا ہوں؟ کیا میری نمازوں میں خشوع بڑھا ہے؟ کیا میرے اخلاق بہتر ہوئے ہیں؟ کیا میں نے قرآنِ مجید سے اپنا تعلق مضبوط کیا ہے؟ کیا میری زندگی سنتِ نبوی ؐ کے مطابق ڈھل رہی ہے؟
یہ سوالات انسان کو اصلاحِ احوال کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور یہی نیا اسلامی سال منانے کا حقیقی طریقہ ہے۔

یاد رکھیں ! نیا سال تجدیدِ عہد کا نام ہے۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس موقع پر اپنے رب سے نیا وعدہ کرے کہ وہ ایمان پر ثابت قدم رہے گا، نمازوں کی حفاظت کرے گا، قرآن کو اپنا رہنما بنائے گا اور سنتِ رسولؐ کو اپنی زندگی کا دستور بنائے گا۔
وہ عہد کرے کہ:
میں سچائی کو اختیار کروں گا۔
امانت داری کو اپنی پہچان بنائوں گا۔
والدین کے حقوق ادا کروں گا۔
صلہ رحمی کو فروغ دوں گا۔
معاشرے میں خیر اور بھلائی کا سبب بنوں گا۔                                    
دینِ اسلام کی دعوت کو اپنی استطاعت کے مطابق آگے پہنچائوں گا۔
یہی وہ عہد ہیں جو ایک فرد، ایک خاندان اور ایک معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتے ہیں۔
نئے اسلامی سال کے  آغاز کے موقع پر امتِ مسلمہ کے لیے بھی ایک پیغام ہے کہ آج امت بے شمار آزمائشوں سے گزر رہی ہے۔ فکری انتشار، اخلاقی زوال، فرقہ واریت، دنیا پرستی اور دین سے دوری نے مسلمانوں کو کمزور کردیا ہے۔ ایسے حالات میں ہجرتِ نبوی ؐ کا پیغام پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان قرآن و سنت کی طرف رجوع کریں، بزرگان کرام اور اولیائے عظام کے فہم کو اپنائیں، اپنے عقائد اور اعمال کی اصلاح کریں اور اتحاد و اخوت کو فروغ دیں۔
عزت، کامیابی اور سربلندی کا راستہ وہی ہے جس پر رسول اللہ ؐ، صحاب کرام رضی اللہ عنہم ، بزرگان کرام اور اولیائے عظام گامزن تھے۔
یہ بات معلوم ہے کہ نئے اسلامی سال کا  آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے۔ محرم الحرام نیکیوں کا موسم ہے۔ یہ مہینہ اللہ تعالی کے محترم مہینوں میں سے ایک ہے۔ اس میں نیک اعمال کا اجر بڑھ جاتا ہے اور گناہوں سے بچنے کی خصوصی تاکید کی گئی ہے۔
لہذاضروری ہے کہ نئے سال کا آغاز عبادت، توبہ، استغفار، ذکرِ الہی اور نیک اعمال کے ساتھ کریں۔ 
نیا اسلامی سال ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی مسلسل سفر کا نام ہے۔ وقت کی رفتار کسی کے لیے نہیں رکتی۔ کامیاب وہی ہے جو ہر نئے سال کو اپنی اصلاح، اپنے ایمان کی مضبوطی اور اپنے رب سے تعلق کے استحکام کا ذریعہ بنائے۔
آئیے! ہجرتِ نبویؐ کے عظیم پیغام کو اپنے دلوں میں زندہ کریں۔ گناہوں سے نیکیوں کی طرف، غفلت سے بیداری کی طرف، کمزوری سے استقامت کی طرف اور دنیا پرستی سے اللہ تعالی کی رضا کی     طرف ہجرت کریں۔
اللہ تعالی ہمیں ہجرتِ نبوی ؐ کے مقاصد کو سمجھنے، سلفِ صالحین کے نقشِ قدم پر چلنے اور نئے اسلامی سال کو اپنی دینی و اخلاقی زندگی میں حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔