سفینہ سلیم
جب ریاستیں ناکام ہوتی ہیں اور قومیں زوال کی جانب لڑھکنے لگتی ہیں تو ان کے بازاروں میں علم نہیں فتنہ فروخت ہوتا ہے۔ منبر سے حق کی نہیں مفاد کی آواز گونجتی ہے۔ اور جب مایوسی، بداعتمادی، اور اخلاقی انحطاط کا یہ طوفان اٹھتا ہے تو اس میں سب سے پہلے بہکنے والی نسل وہ ہوتی ہے جس نے کل کو سنوارنا ہوتا ہے یعنی نوجوان۔
ہم آج کے پاکستان کی بات کرتے ہیں تو ایک ایسا منظرنامہ سامنے آتا ہے جہاں یونیورسٹیاں علم کے بجائے نظریاتی جھگڑوں کے اکھاڑے بن چکی ہیں۔ سوشل میڈیا کا نوجوان طالب علم کے بجائے افواہوں، سازشی تھیوریوں، جھوٹے راویوں اور زائچے بنانے والوں کے پیچھے دوڑ رہا ہے۔ یوٹیوب اور ٹک ٹاک پر متکبر گلوکاروں، بھونڈی جگت باز شاعری، اور لچر مزاح کے ہجوم میں سنجیدہ سوچ دفن ہو چکی ہے۔
جس قوم کا نوجوان کسی نجومی کے کہنے پر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے اور جس کے والدین درہم و دینار کے بدلے آن لائن پیراوربالمشافہ پیروں سے استخارہ کروائیں وہاں ترقی کے خواب صرف اشتہارات کی حد تک رہ جاتے ہیں۔
آج ہمارے ارد گرد ہر گلی کوچے میں خود ساختہ حق گو پیدا ہو گئے ہیں جو چند فالوورز کے بدلے فتنہ و فساد کا پرچار کر رہے ہیں۔ مذہب کو پراڈکٹ بنا کر بیچنے والے فتوی فروش بھی سرگرم ہیں۔ ان کے لیے نہ علم کی شرط ہے نہ دیانت کی۔ اور نوجوان جو شناخت کی تلاش میں ہے ان کا سب سے آسان شکار ہے۔
دوسری طرف سیاست دانوں کی موقع پرستی نے بھی نوجوان کو مایوس کیا ہے۔ انقلاب کے نعرے لگانے والے خود مراعات یافتہ بن چکے ہیں۔ نوجوان کو نہ عدل ملا نہ روزگار نہ رہنمائی۔ نتیجتاً! وہ یا تو نشے کی طرف مائل ہو رہا ہے، یا سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی دوڑ میں اپنی اخلاقیات اور شناخت قربان کر رہا ہے۔
یہ صورت حال محض چند افراد کا مسئلہ نہیں یہ قومی سانحہ ہے۔
قوموں کا زوال صرف معیشت کے بحران سے نہیں آتا اصل زوال تب آتا ہے جب نوجوان فکری، اخلاقی اور روحانی دیوالیہ پن کا شکار ہو جائے۔ جب نوجوان کی ترجیحات میں محنت، تعلیم، خدمت اور سچائی کی جگہ فالوورز، وائرل ویڈیوز، اور سستی شہرت لے لے تو پھر قوموں کا مقدر شکست ہی بن جاتی ہے۔
بدقسمتی سے آج ہماری نوجوان نسل کی اکثریت حقیقت سے فرار اور سہولت پرستی کے رجحان کا شکار ہو چکی ہے۔ وہ علم، تجربے اور محنت کے
دشوار راستے پر چلنے کے بجائے فوری کامیابی دکھاوے اور شہرت کے فریب میں مبتلا ہو گئی ہے۔ لائکس اور شیئرز کی دنیا میں جینے والا نوجوان اندر سے کھوکھلا ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے ہاتھ میں سمارٹ فون ہے مگر ذہن میں الجھن ہے۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود وہ باشعور نہیں کیونکہ اسے سکھانے والے خود کنفیوڑن کے مارے ہوئے ہیں۔
صاحبِ اقتدارکوسمجھناہوگا کہ نوجوان صرف قوم کا مستقبل نہیں بلکہ حال بھی ہیں۔ اگر ہم آج ان کی اصلاح، تربیت، اور فکری رہنمائی نہیں کریں گیتو کل ان کے ہاتھوں ہمارے سماج کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ ریاست کو صرف ترقیاتی منصوبوں پر نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور تعلیمی اصلاحات پر بھی سرمایہ کاری کرنا ہو گی۔ ہمیں تعلیمی اداروں کو نظریاتی پاکیزگی میڈیا کو ذمے داری اور مذہبی قیادت کو خلوص کے ساتھ نوجوانوں تک سچ پہنچانا ہو گا ورنہ یہ دھند اتنی گہری ہو جائے گی کہ ہمیں اپنا راستہ بھی دکھائی دینا بند ہو جائے گا۔
اب بھی وقت ہے کہ ریاست، والدین، اساتذہ، اور علما مل کر اس نسل کو بچائیں۔ نوجوانوں کو حق، تحقیق، اور شعور کی روشنی کی طرف واپس لانے کی ضرورت ہے ورنہ وہ وقت دور نہیں جب بھکاریوں، ڈھولچیوں، چغل خوروں اور فتنہ فروشوں کی بھیڑ میں اصل رہنما گم ہو جائیں گے۔