لاہور: حکومت کی جانب سے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کے فیصلے پر آل پنجاب کریانہ ایسوسی ایشن کا ردعمل سامنے آگیا۔
مرکزی ایسوسی ایشن پنجاب کے صدر حافظ عارف گجر نے حکومتی فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کریانہ کی دکانیں بند نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔اپنے ویڈیو پیغام میں حافظ عارف گجر نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں، حتیٰ کہ جنگی حالات کے دوران بھی، اشیائے خورونوش کی دکانیں مکمل طور پر بند نہیں کروائی جاتیں۔ ان کے مطابق عوام کی روزمرہ ضروریات سے وابستہ دکانوں کو بند کرنے کا فیصلہ قابلِ تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ کریانہ کی دکانیں بند کروانے کے حکومتی فیصلے کی مذمت کے ساتھ مزاحمت بھی کی جائے گی۔ حافظ عارف گجر کے مطابق ایسوسی ایشن نے فیصلہ کیا ہے کہ کریانہ کی دکانیں رات 9 بجے بند نہیں کی جائیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے رات 11 بجے دکانیں بند کرنے کا فیصلہ بھی کاروباری سرگرمیوں کیلئے نقصان دہ تھا، جبکہ مزید پابندیاں عائد ہونے سے تاجروں اور دکانداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
سمارٹ لاک ڈاؤن سے بے روزگاری بڑھنے کا خدشہ
حافظ عارف گجر نے مؤقف اختیار کیا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنا ملک کو معاشی طور پر پیچھے لے جانے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے سے کاروباری برادری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ دکانوں کے اوقات کار محدود ہونے یا کاروبار بند ہونے سے بڑی تعداد میں ملازمین متاثر ہوں گے اور لاکھوں افراد کے روزگار ختم ہونے کا خدشہ پیدا ہوجائے گا۔صدر مرکزی ایسوسی ایشن پنجاب نے مزید کہا کہ کاروباری سرگرمیوں میں کمی کے باعث ملک کے زرمبادلہ سے متعلق اہداف بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
حکومت سے کاروبار کیلئے فری ہینڈ ٹائم دینے کا مطالبہ
حافظ عارف گجر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے فیصلے پر نظرثانی کرے اور کاروباری طبقے کو مناسب اوقات میں کام کرنے کی اجازت دے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کاروبار کیلئے فری ہینڈ ٹائم دیا جائے تاکہ دکاندار، ملازمین اور عوام اپنی معاشی اور روزمرہ ضروریات پوری کرسکیں۔