اسلام آباد: گڈز ٹرانسپورٹرز کے بعد آل پاکستان ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے بھی اپنے مطالبات کے حق میں 8 اگست سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مسائل حل نہ کیے تو ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کا پہیہ مکمل طور پر جام کر دیا جائے گا۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے حکومت کی حالیہ معاشی اور ٹیکس پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیزل کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر ردوبدل ٹرانسپورٹ کے کاروبار کو شدید متاثر کر رہا ہے اور اس صورتحال میں کرایوں اور اخراجات کا تعین کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔عہدیداران نے کہا کہ ٹول ٹیکس میں 250 روپے سے بڑھا کر 750 روپے تک اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ ود ہولڈنگ ٹیکس بھی بڑھا دیا گیا ہے، جس سے کاروباری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کو موجودہ شرح سے کم کر کے 2 فیصد کیا جائے۔انہوں نے حکومت کی کسٹمز اور ٹرانسپورٹ سے متعلق نئی پالیسیوں پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کسی گاڑی میں ایک بھی غیر کسٹم شدہ کارٹن موجود ہو تو پوری گاڑی ضبط کرنے کا قانون غیر منصفانہ ہے۔ ان کے مطابق پہلے ایسے معاملات میں صرف جرمانہ عائد کیا جاتا تھا، اسی نظام کو دوبارہ بحال کیا جائے۔
ٹرانسپورٹرز نے ایکسل لوڈ قوانین پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اسے آمدن کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیادہ وزن والی گاڑیوں کو سڑکوں پر جرمانے کرنے کے بجائے فیکٹریوں اور لوڈنگ پوائنٹس پر ہی روکا جائے تاکہ ٹرانسپورٹرز کو غیر ضروری جرمانوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہیوی ٹرانسپورٹ وہیکل (HTV) لائسنس کے حصول کے لیے بھی ڈرائیورز کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے، جس سے پیشہ ور ڈرائیوروں کی تعداد متاثر ہو رہی ہے۔ایسوسی ایشن کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ٹول ٹیکس کو 2024 کی سطح پر واپس لایا جائے اور ٹرانسپورٹرز کے لیے کاروباری ماحول بہتر بنایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر مطالبات تسلیم نہ کیے تو 8 اگست سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔دوسری جانب آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے اپنے وفد کے ہمراہ ایڈیشنل آئی جی موٹروے جاوید اکبر ریاض سے ملاقات کی، جس میں موٹروے پولیس کی جانب سے جرمانوں، ایکسل لوڈ قوانین اور دیگر مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملک شہزاد اعوان نے بتایا کہ آئی جی موٹروے چوہدری سلطان کی ہدایت پر ہونے والی ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایکسل لوڈ قوانین پر یکساں اور منصفانہ انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور اوورلوڈنگ کی روک تھام کے لیے موٹروے پولیس اپنا کردار ادا کرے گی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ دسمبر میں ہونے والی ہڑتال کے دوران کیے گئے وعدوں پر بھی بات ہوئی، تاہم اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو 8 اگست کو گڈز ٹرانسپورٹرز بھی ملک گیر پرامن ہڑتال کریں گے۔ٹرانسپورٹرز تنظیموں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مذاکرات کر کے ٹرانسپورٹ شعبے کو درپیش مسائل حل کریں، تاکہ ملک میں اشیائے ضروریہ کی ترسیل اور تجارتی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔