ایک صدی سے زیادہ عرصے میں پہلی بار بلی کی نئی نسل دریافت

ایک صدی سے زیادہ عرصے میں پہلی بار بلی کی نئی نسل دریافت

بولیویا کے جنگلات میں جنگلی بلی کی ایک نئی نسل دریافت ہوئی ہے، جسے سائنسی طور پر Leopardus tilcayo کا نام دیا گیا ہے۔

 مقامی طور پر اس چھوٹی جنگلی بلی کو ’’Tilcayo‘‘ کہا جاتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ جسامت میں انتہائی چھوٹی جنگلی بلی ہے، جس کی جسمانی لمبائی تقریباً 46 سینٹی میٹر اور وزن صرف 1.4 کلوگرام کے لگ بھگ ہے۔ اس کی کھال ہلکی بھوری رنگت کی ہے جبکہ جسم پر بے قاعدہ دھبے اور گول نشان نمایاں ہوتے ہیں۔نئی نسل کی شناخت میں صرف اس کی ظاہری شکل و صورت کو بنیاد نہیں بنایا گیا بلکہ ماہرین نے جدید جینیاتی تکنیکوں سے اس کے ڈی این اے کا بھی تفصیلی تجزیہ کیا۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ یہ بلی دیگر ٹائیگر کیٹس سے جینیاتی طور پر مختلف ہے اور اسے ایک الگ نوع کے طور پر شناخت کیا جاسکتا ہے۔ماہرین جینیات نے جنوبی امریکا سے حاصل کیے گئے جنگلی بلیوں کے 38 نمونوں کا ڈی این اے تجزیہ کیا۔ تحقیق کے دوران معلوم ہوا کہ جن جانوروں کو پہلے ایک ہی گروہ یا نوع کا حصہ سمجھا جاتا تھا، ان میں دراصل کئی مختلف جینیاتی اقسام موجود ہیں۔جینیاتی شواہد کے مطابق Leopardus tilcayo کا ارتقائی سلسلہ دوسری متعلقہ اقسام سے تقریباً 14 لاکھ سال پہلے الگ ہوا تھا۔ اس دریافت سے جنوبی امریکا میں پائی جانے والی چھوٹی جنگلی بلیوں کے ارتقائی تعلق اور جینیاتی تنوع کو سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک صدی سے زائد عرصے میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ کسی زندہ جنگلی بلی کی نئی نسل کو باقاعدہ سائنسی نام دے کر باضابطہ طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت نے حیاتیاتی تنوع اور جنگلی حیات کی درجہ بندی کے حوالے سے بھی خاصی توجہ حاصل کی ہے۔تحقیق کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ نئی بلی کی شناخت صرف ظاہری خصوصیات کی بنیاد پر نہیں کی گئی۔ ڈی این اے تجزیے نے اس بات کے شواہد فراہم کیے کہ Tilcayo جینیاتی طور پر دوسری قریبی جنگلی بلیوں سے الگ اور منفرد ہے۔ماہرین نے اس دریافت کے ساتھ اس کے قدرتی مسکن کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ بولیویا کے یونگاس کے جنگلات جنگلات کی کٹائی، زرعی سرگرمیوں، جنگلاتی آگ اور کان کنی جیسے عوامل سے متاثر ہورہے ہیں۔ماہرین کے مطابق نئی نسل کی سائنسی شناخت اس کے قدرتی مسکن کے تحفظ کے لیے بھی اہم ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ کسی جانور کو الگ نوع کے طور پر تسلیم کیے جانے سے اس کی آبادی، مسکن اور تحفظ کی ضروریات پر مزید تحقیق کی راہ ہموار ہوتی ہے۔