آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہاز کو نشانہ بنانے اور حراست میں لینے کا ایرانی دعویٰ

آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہاز کو نشانہ بنانے اور حراست میں لینے کا ایرانی دعویٰ

ایران کے پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ٹوگو کے پرچم تلے سفر کرنے والے ایک تیل بردار جہاز کو نشانہ بنانے اور اسے حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

 ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ جہاز میں آگ لگنے کے بعد کارروائی کرتے ہوئے اسے تحویل میں لے لیا گیا۔ایرانی حکام کے مطابق مذکورہ تیل بردار جہاز نے آبنائے ہرمز سے مبینہ طور پر غیر قانونی راستے سے گزرنے کی کوشش کی تھی، جس کے بعد ایرانی فورسز نے جہاز کے خلاف کارروائی کی۔دوسری جانب برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ادارے نے بھی آبنائے ہرمز میں ایک ’’سکیورٹی واقعے‘‘ کی اطلاع دی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ واقعہ عمان کے شہر خصب سے تقریباً 30 کلومیٹر شمال مشرق میں پیش آیا، تاہم فوری طور پر متاثرہ جہاز کی شناخت یا واقعے کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز میں حالیہ دنوں کے دوران تجارتی بحری آمدورفت معمول کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہوئی ہے۔ جمعرات کو صرف چار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ گزشتہ 10 روز کے دوران روزانہ گزرنے والے تجارتی جہازوں کی اوسط تعداد تقریباً 16 رہی ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب کے دعوے اور برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ادارے کی جانب سے رپورٹ کیے گئے واقعے کے درمیان بظاہر ممکنہ تعلق موجود ہے، تاہم فوری طور پر آزاد ذرائع سے اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ دونوں اطلاعات میں ایک ہی تیل بردار جہاز کا ذکر کیا گیا ہے۔

آبنائے ہرمز خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع دنیا کی اہم ترین توانائی کی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اہم سمندری راستے میں کسی بھی بحری واقعے سے عالمی توانائی کی سپلائی، شپنگ سرگرمیوں اور تیل کی قیمتوں پر ممکنہ اثرات کے خدشات پیدا ہوسکتے ہیں۔صورتحال کے پیش نظر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت اور سکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ ایرانی دعوے اور برطانوی میری ٹائم اطلاع کی مزید آزادانہ تصدیق کا انتظار ہے۔