تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں دو آئل ٹینکر ایرانی بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ لگ گئی اور ان کی نقل و حرکت رک گئی۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق، پاسدارانِ انقلاب نے اپنے سرکاری خبر رساں پلیٹ فارم سپاہ نیوز پر جاری بیان میں کہا کہ دونوں ٹینکر ایسے بحری راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے تہران غیر قانونی قرار دیتا ہے۔ ایرانی بحریہ کے مطابق بارودی سرنگوں کے دھماکوں کے بعد جہازوں میں آگ بھڑک اٹھی اور انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔
جہازوں اور عملے سے متعلق تفصیلات سامنے نہ آسکیں
ایرانی بحریہ کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ دونوں آئل ٹینکروں کو کس وقت نشانہ بنایا گیا۔ فراہم کردہ رپورٹ میں جہازوں کے نام، ان کی ملکیت، ان کے جھنڈے اور عملے کے ارکان کی تعداد سے متعلق بھی معلومات موجود نہیں ہیں۔اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ واقعے میں کوئی شخص زخمی یا ہلاک ہوا ہے یا نہیں، جبکہ جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کی تفصیلات بھی سامنے نہیں آئیں۔تاحال یہ معلومات ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے دعوے پر مبنی ہیں۔ واقعے کی آزادانہ تصدیق اور کسی دوسرے متعلقہ فریق کا مؤقف فراہم کردہ رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔
امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ بھی سامنے آگیا
پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی فورسز نے پیر کی رات ایک امریکی ڈرون مار گرایا تھا۔تاہم، اس حوالے سے بھی فراہم کردہ رپورٹ میں امریکی حکام کی جانب سے تصدیق یا تردید کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ڈرون کی قسم، اسے مار گرانے کے مقام اور واقعے کے دیگر پہلوؤں سے متعلق مزید تفصیلات بھی دستیاب نہیں ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جہاں سے عالمی منڈیوں تک خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔اس راستے میں بحری جہازوں کی آمدورفت متاثر ہونے سے نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔ بحری جہازوں کو لاحق خطرات میں اضافے سے تیل کی ترسیل میں تاخیر اور شپنگ اخراجات بڑھنے کے امکانات بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔