آبنائے ہرمز میں کنٹینر بردار جہاز ڈوب گیا

آبنائے ہرمز میں کنٹینر بردار جہاز ڈوب گیا

 آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرانے اور آگ لگنے کے بعد ایک کنٹینر بردار بحری جہاز ڈوب گیا، جبکہ سمندر میں تیرتے کنٹینرز اور دیگر سامان کی تصاویر بھی سامنے آگئیں۔

دوسری جانب ایرانی فوجی کمانڈر امیر حاتمی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مکمل نگرانی کی جارہی ہے اور ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بحری جہاز گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگ سے ٹکرایا، جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔ آگ کے باعث جہاز کو شدید نقصان پہنچا اور بالآخر وہ سمندر میں ڈوب گیا۔واقعے کے بعد سمندر کی سطح پر کنٹینرز اور دیگر سامان تیرتا ہوا دکھائی دیا۔ تاہم دستیاب اطلاعات میں جہاز کے نام، عملے کی تعداد، ممکنہ جانی نقصان اور حادثے کی مکمل تفصیلات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

آبنائے ہرمز کی نگرانی جاری ہے، ایرانی فوجی کمانڈر

دوسری جانب ایرانی فوجی کمانڈر امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ایرانی فوج آبنائے ہرمز کی مسلسل نگرانی کررہی ہے اور جنگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔امیر حاتمی نے امام علی آفیسرز یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز کی نگرانی کررہے ہیں۔ ان کے مطابق دشمن کا کوئی جہاز عمانی سمندری حدود اور آبنائے ہرمز میں داخل نہیں ہوسکا۔ایرانی کمانڈر کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اس اہم بحری گزرگاہ کی سکیورٹی اور نگرانی کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دے رہا ہے۔

عالمی تجارت کے لیے اہم بحری گزرگاہ

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے اور عالمی سطح پر خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔اس گزرگاہ میں کسی بھی فوجی کشیدگی، بحری حادثے یا آمدورفت میں رکاوٹ سے عالمی توانائی منڈی، جہاز رانی کے اخراجات اور بین الاقوامی تجارت متاثر ہوسکتی ہے۔کنٹینر بردار جہاز کے ڈوبنے اور ایرانی فوجی کمانڈر کے بیان کے بعد خطے کی بحری سکیورٹی کی صورتحال مزید اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ تاہم جہاز کے حادثے کی اصل وجوہات، بارودی سرنگ سے ٹکرانے کی تفصیلات اور واقعے کی ذمہ داری سے متعلق آزادانہ تصدیق سامنے آنا باقی ہے۔