مارخور کا شکار ، ایک ارب 38کروڑ 6لاکھ 4ہزار 68 روپے آمدن

مارخور کے تحفظ اور رہائش گاہوں کے لیے بھی قانونی شکار کے فنڈز خرچ کئے جاتے ہیں  
اسلام آباد(آئی این پی )ملک بھر میں 2023 سے 2025 کے دوران مارخور کے شکار سے ڈیڑھ ارب روپے سے زیادہ کی آمدن ریکارڈ کی گئی ہے۔سینیٹ کے 21 اگست 2026 کے اجلاس میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کے سوال پر وفاقی وزیر مصدق ملک نے تحریری جواب جمع کرادیا جس کے مطابق دو سال کے دوران گلگت بلتستان اور بلوچستان سے ٹرافی ہنٹنگ سے ایک ارب 38 کروڑ 6 لاکھ 4 ہزار 68 روپے حاصل ہوئے۔اسی طرح سندھ اور خیبرپختونخوا سے دو سال کے دوران قانونی شکار سے 15 لاکھ 94 ہزار 100 ڈالر حاصل ہوئے۔دستاویز کے مطابق گلگت بلتستان میں دو سال کے دوران مارخور اور جنگلی بکری کے شکار سے 62 کروڑ 2 لاکھ 28 ہزار 688 روپے حاصل ہوئے،بلوچستان میں دو سال کے دوران سلیمان مارخور اور سندھ جنگلی کے شکار سے 76 کروڑ 3 لاکھ 75 ہزار 380 روپے حاصل ہوئے۔اسی طرح خیبرپختونخوا میں دو سال کے دوران مارخورکے قانونی شکار سے 15 لاکھ 82 ہزار 900 ڈالر حاصل ہوئے،سندھ میں دو سال کے دوران آئی بیکس کے قانونی شکار سے 11 ہزار 200 ڈالرز کی آمدن ہوئی ۔تحریری جواب میں مزید بتایا گیا ہے کہ قانونی شکار سے حاصل آمدن کا 80 فیصد مقامی کمیونٹیز کو دیا جاتا ہے جبکہ 20 فیصد متعلقہ صوبائی وائلڈ لائف محکموں کے پاس رہتا ہے۔وفاقی وزیر نے تحریری جواب میں بتایا کہ وفاقی حکومت قانونی شکار پروگرام سے کوئی آمدن وصول نہیں کرتی،مقامی کمیونٹیز کو دیئے گئے