آج انصاف مل گیا، شیریں مزاری آبدیدہ ہو گئیں 2 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم، اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے انداز میں سپریم کورٹ کو کام کرنے سے روک رہی ہے، جسٹس نعیم اختر افغان کے ریمارکس
اسلام آباد(آئی این پی ) سپریم کورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی کی ضمانتیں 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کرتے ہوئے ان کے خلاف ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں عدالت نے قرار دیا کہ ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت کیس کے حتمی فیصلے تک دی جارہی ہے۔سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دئیے کہ دونوں وکیل ہیں، اسلئے ان کی عزت رکھ رہے ہیں، تاہم انہیں بھی کہہ دیں کہ عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھیں۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ایک وکیل اور ایک عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر کی ضمانت کی مخالفت کی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے ابھی مخالفت میں کوئی فیصلہ نہیں دیا ، ٹرائل کورٹ میں 7 مواقع فراہم کیے گئے تھے