وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی مشترکہ دفاعی معاہدے کو دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کی تاریخ میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں برادر ملک دشمن کے سامنے صف آرا اور شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔سوشل میڈیا ایکس پر اپنی پوسٹ میں خواجہ آصف نے لکھا کہ رب العزت کے سائے میں مشترکہ دشمن کے مقابل ان شاء اللہ ساری امت متحد ہوگی۔ انہوں نے "پاکستان زندہ باد، مسلم امہ پائندہ باد" کے نعرے بھی لگائے۔وزیراعظم شہباز شریف ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر سعودی عرب کے سرکاری دورے پر اسلام آباد سے ریاض پہنچے، جہاں سعودی F-15 لڑاکا طیاروں نے ان کا شاندار استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد پاکستان اور سعودی عرب کی خودمختاری و سالمیت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔
معاہدے کے تحت پاکستان اب حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کی سلامتی میں اسٹریٹیجک پارٹنر بن گیا ہے۔ اس معاہدے کی تیاری اور تکمیل میں آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کلیدی کردار رہا۔یہ معاہدہ دونوں ممالک کے کئی دہائیوں پر محیط فوجی تعاون، مشترکہ مشقوں اور دفاعی تعلقات کو باقاعدہ اسٹریٹیجک شراکت داری میں تبدیل کرتا ہے۔ معاہدے سے نہ صرف خطے میں امن اور عالمی سلامتی کو فروغ ملے گا بلکہ اقتصادی، سفارتی اور عسکری میدانوں میں بھی وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔