بلوچستان تنہا نہیں ، سب شانہ بشانہ کھڑے ہیں:مریم نواز،ایف سی کیلئے 10 ارب روپے کی معاونت کا اعلان

بلوچستان تنہا نہیں ، سب شانہ بشانہ کھڑے ہیں:مریم نواز،ایف سی کیلئے 10 ارب روپے کی معاونت کا اعلان

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کوئٹہ میں ایف سی ہیڈکوارٹرز بلوچستان کے دورے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کیلئے 10 ارب روپے کی معاونت کا اعلان کیا اور کہا کہ بلوچستان تنہا نہیں، سب شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر ہم بحیثیت قوم سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد رہیں تو دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

مریم نواز نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے۔ انہوں نے ایف سی کے نوجوانوں کو سلام پیش کیا جو مشکلات کے باوجود فرنٹ لائن پر ملک کی حفاظت میں قربانیاں دے رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہا جائے، کوئی گرے ایریا سیاسی قیادت اور عوام کے دماغ میں نہیں ہونا چاہیے۔ جو بھی پاکستان کو کمزور کرے، چاہے وہ اندر ہو یا باہر، وہ پاکستان کا دوست نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ مضبوطی سے کرنا ہے اور دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ کچھ سیاسی رہنماؤں نے دہشت گردوں کیلئے دروازے کھولے، جو اپنے ملک اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔مریم نواز نے مزید کہا کہ بات چیت کے لیے ہتھیار اٹھانے یا قوم کو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں، فیصلہ کرنا ہوگا کہ انتہا پسندی کو شکست دینی ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
 مریم نواز نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے۔ انہوں نے ایف سی کے نوجوانوں کو سلام پیش کیا جو مشکلات کے باوجود فرنٹ لائن پر ملک کی حفاظت میں قربانیاں دے رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سیاہ کو سیاہ اور سفید کو سفید کہا جائے، کوئی گرے ایریا سیاسی قیادت اور عوام کے دماغ میں نہیں ہونا چاہیے۔ جو بھی پاکستان کو کمزور کرے، چاہے وہ اندر ہو یا باہر، وہ پاکستان کا دوست نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار کا مقابلہ مضبوطی سے کرنا ہے اور دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔ کچھ سیاسی رہنماؤں نے دہشت گردوں کیلئے دروازے کھولے، جو اپنے ملک اور ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں۔

مریم نواز نے مزید کہا کہ بات چیت کے لیے ہتھیار اٹھانے یا قوم کو تقسیم کرنے کی ضرورت نہیں، فیصلہ کرنا ہوگا کہ انتہا پسندی کو شکست دینی ہے اور دہشت گردوں کے خلاف کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔