وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور سے ینگ پارلیمنٹیرینز فورم کے نمائندہ وفد کی ملاقات میں اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وفد میں مختلف صوبوں اور سیاسی جماعتوں کے نوجوان اراکینِ اسمبلی شامل تھے، جنہوں نے قومی مسائل اور ترقیاتی حکمتِ عملی پر گفتگو کی۔
وزیرِ اعلیٰ کی گفتگو کے اہم نکات:
چھوٹے صوبوں کی تشکیل: علی امین گنڈا پور نے کہا کہ چھوٹے صوبے اس لیے نہیں بن رہے کیونکہ حکمران بڑی سلطنت پر کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں۔
اعتماد اور سرمایہ کاری: انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں اعتماد کے فقدان کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔
ترقیاتی منصوبے: وزیرِ اعلیٰ نے ترقیاتی منصوبوں میں ترجیحات کے تعین کو انتہائی اہم قرار دیا تاکہ وسائل کا درست استعمال ہو سکے۔
پن بجلی منصوبے: خیبر پختونخوا میں 800 میگاواٹ پن بجلی کے منصوبوں پر کام جاری ہے، جو توانائی بحران کے خاتمے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
وفاقی شیئرز: انہوں نے شکایت کی کہ وار آن ٹیرر اور ضم شدہ اضلاع کی بحالی کے لیے خیبر پختونخوا کو وفاقی حکومت سے کم شیئرز مل رہے ہیں۔
ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ: کے پی حکومت نے 50 ارب روپے کے ڈیبٹ مینجمنٹ فنڈ کے قیام کا اعلان کیا تاکہ مالی معاملات بہتر کیے جا سکیں۔
سیاسی اختلافات: انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور دوریاں بڑھا دی گئی ہیں، جس کی وجہ سے متحد ہو کر کام کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کا مؤقف:
علی امین گنڈا پور نے زور دیا کہ سیاست اپنی جگہ، لیکن ملکی ترقی کو ہر حال میں ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے نوجوان پارلیمنٹیرینز پر زور دیا کہ وہ اتفاق و اتحاد کے فروغ کے لیے کردار ادا کریں۔یہ ملاقات سیاسی و سماجی مسائل کے حل کے لیے مختلف فریقین کے ساتھ مشاورت کا ایک مثبت قدم ہے۔