افغانستان میں شطرنج کھیلنے پر طالبان حکومت نے پابندی لگا دی

افغانستان میں شطرنج کھیلنے پر طالبان حکومت نے پابندی لگا دی

کابل (ویب ڈیسک): طالبان حکومت نے افغانستان بھر میں شطرنج کھیلنے پر تا حکمِ ثانی پابندی عائد کر دی ہے۔

اس اقدام کو طالبان نے شریعت کی روشنی میں جوا کے امکانات سے جوڑا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق طالبان حکام نے اعلان کیا ہے کہ جب تک شریعت کے تقاضے پورے نہیں ہو جاتے، شطرنج کے کھیل کو معطل رکھا جائے گا۔ اس فیصلے کے تحت:شطرنج سے متعلق تمام سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔افغانستان شطرنج فیڈریشن کو تحلیل کر دیا گیا ہے۔واضح رہے کہ اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں کئی کھیلوں پر مختلف وجوہات کی بنیاد پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، خاص طور پر خواتین کی کھیلوں میں شرکت پر مکمل پابندی ہے۔

شطرنج، جسے دنیا بھر میں ذہنی مشق اور حکمت کے کھیل کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، طالبان کی جانب سے حالیہ نشانہ بننے والا نیا کھیل ہے۔ اس سے قبل طالبان حکومت نے مخلوط مارشل آرٹس (MMA) کو بھی شریعت سے متصادم قرار دے کر پابندی لگا دی تھی۔طالبان حکومت کے ان اقدامات کو انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی کھیلوں کے اداروں کی جانب سے تنقید کا سامنا ہے، جو انہیں نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے مضر قرار دیتے ہیں۔