پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ: ملیحہ لودھی کی اہم رائے

پاکستان اور سعودی عرب کا دفاعی معاہدہ: ملیحہ لودھی کی اہم رائے

اسلام آباد: پاکستان کی سابق سفیر برائے اقوام متحدہ، ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ (SMDA) نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس کے خطے پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔

 انہوں نے کہا کہ معاہدے کی ایک بڑی شق یہ ہے کہ ایک ملک پر حملہ، دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس معاہدے سے پاکستان ایک سیکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر ابھر رہا ہے۔

امریکا پر سوالیہ نشان
ملیحہ لودھی نے کہا کہ کئی عرب ممالک، جن کی سلامتی کا ضامن امریکا سمجھا جاتا تھا، اب واشنگٹن کے کردار پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق:اسرائیل کے قطر پر حملے کے بعد یہ سوالات مزید بڑھ گئے ہیں۔امریکا نے نہ صرف حملے کی بھرپور مذمت نہیں کی بلکہ اس کی خاموشی نے عرب ریاستوں میں اعتماد کو مزید متزلزل کر دیا۔اس صورتحال سے امریکا کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
خلیجی ریاستوں کا رویہ
ملیحہ لودھی نے کہا کہ اب خلیجی ریاستیں یہ دیکھ رہی ہیں کہ اپنی سلامتی کو کس طرح خود محفوظ بنایا جائے اور کس ملک پر اعتماد کیا جائے۔ اس تناظر میں پاکستان کا کردار بڑھ رہا ہے۔

معاہدے کی اہم شقیں
گزشتہ شب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیرِ اعظم شہباز شریف نے معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے مطابق:دونوں ممالک کی دفاعی تیاریوں اور صلاحیتوں کا انضمام بڑھایا جائے گا۔موجودہ اور مستقبل کے خطرات کے مقابلے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے گی۔کسی بھی ملک پر بیرونی مسلح حملہ، پاکستان اور سعودی عرب دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔
معاہدہ خطے میں امن اور عالمی سلامتی کے فروغ کے لیے دونوں ممالک کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔