بھارتی جارحیت کے دوران کمسن شہید ارتضیٰ عباس کی قربانی قوم کے لیے مشعلِ راہ

بھارتی جارحیت کے دوران کمسن شہید ارتضیٰ عباس کی قربانی قوم کے لیے مشعلِ راہ

معرکۂ حق کے دوران بھارتی بزدلانہ جارحیت کے نتیجے میں کئی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش ہوا، جن میں ایک کمسن اور معصوم شہید، ارتضیٰ عباس بھی شامل ہیں۔

بھارت نے نام نہاد ’’آپریشن سندور‘‘ کے دوران نہتے شہریوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا، جن میں ارتضیٰ عباس بھی شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔ اس وقت ان کے والد، لیفٹیننٹ کرنل ظہیر عباس، خود لائن آف کنٹرول کے محاذ پر دشمن کے خلاف صف آراء تھے۔ بیٹے کی شہادت کے باوجود انہوں نے اپنے فرائض منصبی میں کسی قسم کی کمی نہ آنے دی اور ثابت قدمی کے ساتھ محاذ پر ڈٹے رہے۔

یہ جذبہ اس بات کی گواہی ہے کہ دشمن کی بزدلانہ کارروائیاں نہ عوام کے حوصلے پست کر سکتی ہیں اور نہ ہی ہمارے بہادر جوانوں کے عزم کو متزلزل کر سکتی ہیں۔قوم معصوم شہید ارتضیٰ عباس کو سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے، جن کی قربانی ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتی رہے گی۔