پاکستان کا اعلیٰ سطحی وفد، جس کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف کر رہے ہیں، افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچ گیا ہے۔
یہ پیش رفت افغان طالبان کی طرف سے پاکستان سے درخواست پر کی گئی ہے تاکہ سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے اور علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے بات چیت کی جا سکے۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، وفد کا مقصد افغان طالبان کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کے دوران، سرحد پار دہشت گردی کے فوری خاتمے پر زور دینا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان عالمی وعدوں کی پاسداری اور اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد تنظیموں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کرے گا۔مذاکرات میں سرحدی سلامتی، اطلاعات کے تبادلے، اور علاقائی استحکام سے متعلق اقدامات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ پاکستان کا مقصد ہے کہ ان مذاکرات کے ذریعے خطے میں پائیدار امن اور استحکام کو فروغ دیا جائے، تاکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششیں کی جا سکیں اور علاقائی روابط میں بہتری آئے۔ترجمان دفتر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات علاقائی سلامتی کے لیے مثبت نتائج لائیں گے اور خطہ میں امن و استحکام کے قیام میں مددگار ثابت ہوں گے۔