پاکستان میں کچھ عرصے سے انتہا پسندی کی روایت چل پڑی ، جس کا دل چاہتا ہے اپنا مطالبہ لے کر سڑک پر نکل آتا ہے ، کیا پولیس کی گاڑیاں جلانے سے غزہ کا مسئلہ حل ہو گیا
پرتشدد احتجاج کرنے والے ملک اور عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے، ایک مذہبی جماعت کے احتجاج کا کوئی جواز نہیں ‘تاجروں نے کال کو مسترد کردیا:وزیراطلاعات کی پریس کانفرنس
لاہور (سپیشل رپورٹر )پنجاب کابینہ نے تحریک لبیک پاکستان پر پابندی کی منظوری دیدی اور مذہبی جماعت پر پابندی کی سمری وفاقی حکومت کو بھجوا دی گئی ہے۔ لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات عظمی بخاری نے کہا پاکستان میں مذہبی جماعتیں سیاسی عمل کا حصہ رہی ہیں، مذہب کے نام پر اپنی سوچ مسلط کرنا قابل قبول نہیں، ایک مذہبی جماعت کے احتجاج کا کوئی جواز نہیں ہے، پاکستان میں کچھ عرصے سے انتہا پسندی کی روایت چل پڑی ہے، جس کا دل چاہتا ہے وہ اپنا مطالبہ لے کر سڑک پر نکل آتا ہے اور شاہراہ بند کر دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مذہبی جماعت کے احتجاج نے خونی رنگ لیا، اس مذہبی جماعت نے ایسا احتجاج پہلے بار نہیں کیا، غزہ کے نام پر ایک احتجاج کی کال دی گئی، احتجاج کی کال تب دی گئی جب غزہ میں جنگ بندی ہو چکی تھی، شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے غزہ جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ریاست اور حکومت نے فیصلہ کیا کہ پاکستان ایسے احتجاج کا متحمل نہیں