زمیندار، سٹاکسٹ اور کولڈ سٹوریج انڈسٹری شدیدمتاثر،مزیدابتری کاامکان
پاکپتن (خصوصی رپورٹ) افغانستان کے ساتھ تجارتی بندش کے باعث آلو کی مارکیٹ شدید متاثر ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان سے افغانستان کو بھجوائی جانے والی اشیاء میں آلو کی بڑی مقدار شامل ہوتی تھی، لیکن کشیدہ حالات کی وجہ سے تجارت بند ہونے کے سبب کولڈ اسٹوریج اور منڈیوں میں موجود آلو کا سٹاک بڑھ گیا ہے۔اس صورتحال کے نتیجے میں سٹور شدہ آلو کی قیمت انتہائی کم ہو گئی ہے اور بوری کی قیمت چند سو روپے تک پہنچ گئی، جبکہ عام طور پر اس کی قیمت ہزاروں میں ہوتی تھی۔ تجارتی بندش کے اثرات زمینداروں، سٹاکسٹ اور کولڈ سٹوریج انڈسٹری پر پڑے ہیں اورمزیدابتری کاامکان ہے، کیونکہ یہی انڈسٹری زمینداروں اور سٹاکسٹ کو بڑی مقدار میں آلو ذخیرہ کرنے اور نئی فصل آنے سے قبل مارکیٹ میں فروخت کرنے کی سہولت فراہم کرتی تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان کو سپلائی میں رکاوٹ کے سبب نہ صرف زمیندار اور سٹاکسٹ کو مالی خسارہ ہو رہا ہے بلکہ کولڈ سٹوریج انڈسٹری بھی بڑے پیمانے پر نقصان میں ہے، جس سے پورے شعبے کی اقتصادی صورتحال متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔