اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ ٹو کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستوں پر سماعت کی۔
درخواست گزاروں کی جانب سے بیرسٹر سلمان صفدر عدالت میں پیش ہوئے اور ٹرائل کورٹ کی کارروائی پر حکمِ امتناعی جاری کرنے کی درخواست کی۔ وکیل صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پراسیکیوشن کا کیس یہ ہے کہ تحفہ وصول کیا گیا تھا، اور اس کا تخمینہ دینے کی کارروائی کی جا رہی ہے، جس پر انہوں نے ٹرائل کورٹ کی کارروائی روکنے کی درخواست کی۔جسٹس انعام امین منہاس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کرمنل کیسز میں اس مرحلے پر اسٹے دینے کی کوئی عدالتی نظیر موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست کو دھیان سے سننے کے بعد دوسرے فریق کو بھی سن کر فیصلہ کیا جائے گا۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے مزید کہا کہ ٹرائل کورٹ میں فرد جرم عائد ہو چکی ہے اور گواہان کے بیانات بھی ریکارڈ ہو رہے ہیں، اس لیے ٹرائل کورٹ کو حکم دیا جائے کہ کیس کا فیصلہ روک دیا جائے اور اسے کسی دوسرے بنچ کے پاس بھیج دیا جائے۔
جسٹس انعام امین منہاس نے کہا کہ اس کیس میں بریت کی درخواستوں کی سماعت کی جا رہی ہے، اور اس بات کا دھیان رکھا جائے گا کہ کیس کی میرٹس پر دلائل دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کیس کی کارروائی میں کوئی حرج نہیں، اور عدالت ٹرائل کورٹ کو جلد فیصلہ کرنے کی بھی ہدایت دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ درخواست گزار کے وکیل کی یہ بات کہ ٹرائل بہت تیزی سے چل رہا ہے، اہم ہے اور ضرورت پڑنے پر روزانہ سماعت بھی ہو سکتی ہے۔آخر میں عدالت نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستوں پر فریقین کو نوٹس جاری کیے اور کیس کی مزید سماعت 28 جنوری تک ملتوی کر دی۔