غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والی گلوبل فلوٹیلا کے 4 اطالوی کارکنوں کو ملک بدر کر دیا ہے، جبکہ دیگر کارکنوں کی ملک بدری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق زیرِ حراست کارکن محفوظ اور صحت مند ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل نے فلوٹیلا کی آخری کشتی بھی قبضے میں لے لی تھی، جس پر پولینڈ کے جھنڈے کے ساتھ 6 افراد سوار تھے۔ مجموعی طور پر تقریباً 500 کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا، جن میں ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، بارسلونا کی سابق میئر ادا کولو اور یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن بھی شامل ہیں۔
200 سے زائد کارکنان کو صحرائے نقب کی جیل منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کے خلاف آبادی و امیگریشن اتھارٹی کے تحت کارروائی ہوگی۔ کولمبیا نے ردعمل میں اسرائیلی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے اور فری ٹریڈ معاہدہ ختم کرنے کا اعلان کیا، جبکہ یورپی ممالک نے کارکنوں کے حقوق کے احترام پر زور دیا۔اقوامِ متحدہ کی نمائندہ فرانچسسکا البانیز نے اسرائیل کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا۔