انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر کے 29 مقدمات میں اہم پیش رفت کے دوران بشریٰ بی بی کو ان کے شوہر اور لیگل ٹیم کی موجودگی میں شاملِ تفتیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کے روبرو کیس کی سماعت ہوئی، جس میں بشریٰ بی بی کے خلاف درج 29 مقدمات کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ عدالت نے ان کی عبوری ضمانت میں 9 جون تک توسیع کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک تفتیشی عمل مکمل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔عدالتی حکم کے مطابق بشریٰ بی بی کو ان کے شوہر عمران خان اور ان کی قانونی ٹیم کی موجودگی میں شاملِ تفتیش کیا جائے گا تاکہ تفتیشی عمل کو شفاف اور مکمل بنایا جا سکے۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ آئندہ تاریخ تک تمام ضروری انکوائری مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے۔سماعت کے دوران سرکاری پراسیکیوٹر اور وکلائے صفائی عدالت میں موجود تھے۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بشریٰ بی بی کے وکیل فیصل محمود ملک ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان کی موکلہ کی عبوری ضمانت 9 جون تک برقرار رہے گی اور عدالت نے انہیں شوہر اور لیگل ٹیم کے ساتھ شاملِ تفتیش کرنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قانونی ٹیم کی بانی چیئرمین سے ملاقات آئینی حق ہے اور اس حوالے سے عائد جرمانے کے عدالتی فیصلے کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ وکیل کے مطابق بغیر مؤکل سے ملاقات کے مؤثر ٹرائل ممکن نہیں ہوتا، جبکہ جیل مینوئل اور آئین وکیل کو اپنے مؤکل سے ملاقات کا حق دیتے ہیں۔وکیل نے مزید بتایا کہ گرفتار کارکنوں کی ضمانت کی درخواستوں پر دلائل مکمل ہو چکے ہیں۔