ایران پر حملے سے قبل امریکا نے اسرائیل کو خفیہ طور پر 300 ہیل فائر میزائل فراہم کیے: امریکی حکام کا انکشاف

ایران پر حملے سے قبل امریکا نے اسرائیل کو خفیہ طور پر 300 ہیل فائر میزائل فراہم کیے: امریکی حکام کا انکشاف

امریکی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے سے کچھ دن قبل امریکا نے خفیہ طور پر اسرائیل کو تقریباً 300 ہیل فائر (Hellfire) میزائل فراہم کیے۔

 یہ انکشاف ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے نے دو امریکی عہدیداروں کے حوالے سے کیا ہے، جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ ترسیل مکمل رازداری کے ساتھ کی گئی اور میڈیا یا کسی عوامی فورم پر اس کی کوئی رپورٹ نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق، یہ قدم اس بات کی واضح علامت ہے کہ امریکی ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کے ایران پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی سے نہ صرف آگاہ تھی بلکہ اس کی معاونت بھی کر رہی تھی۔ذرائع کے مطابق یہ میزائل ایک اہم وقت پر اسرائیل کو فراہم کیے گئے تاکہ وہ ایران کے خلاف اپنے فضائی آپریشنز میں مؤثر کارکردگی دکھا سکے۔ عہدیداروں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے جوابی میزائل حملے روکنے میں امریکی افواج نے بھی اسرائیل کی مدد کی۔

ہیل فائر میزائل کیا ہیں؟
ہیل فائر میزائل جدید ترین لیزر گائیڈڈ، ہوا سے زمین پر مار کرنے والے ہتھیار ہیں۔ یہ عام طور پر ڈرونز، ہیلی کاپٹروں، اور دیگر فضائی پلیٹ فارمز پر نصب کیے جاتے ہیں اور انتہائی درستگی سے ہدف کو نشانہ بناتے ہیں۔1980 کی دہائی میں انہیں اصل میں ٹینک شکن ہتھیار کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، لیکن اب انہیں دنیا بھر میں انسدادِ دہشت گردی اور ہائی پریسژن اسٹرائیک مشنز کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر وہ حملے جن میں حساس تنصیبات، جیسے جوہری پلانٹس یا اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنانا مقصود ہو۔

سفارتی اثرات
یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور خطے میں ایک وسیع جنگ کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ امریکی کردار اور حمایت پر اٹھنے والے سوالات اب نئی شدت کے ساتھ عالمی سطح پر زیرِ بحث ہیں۔ایران کی طرف سے امریکی حمایت کو "براہِ راست جارحیت" قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ میزائل ترسیل عالمی قوانین اور اسلحے کی ترسیل سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی بھی ہو سکتی ہے۔