عراق میں خفیہ اسرائیلی فوجی اڈے کی موجودگی نے سنسنی پھیلا دی

عراق میں خفیہ اسرائیلی فوجی اڈے کی موجودگی نے سنسنی پھیلا دی

ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے دوران عراق میں اسرائیلی خفیہ فوجی اڈے کے انکشافات سے ہلچل مچ گئی ہے۔  
میڈیا رپورٹس کے مطابق، مغربی میڈیا کی جانب سے اڈے کے بارے میں تفصیلات سامنے آنے کے بعد عراق کے حکام نے اس حوالے سے کوئی رسمی ردعمل نہیں دیا ہے۔  دو عراقی سیکورٹی اہلکاروں نے اے ایف پی کو بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے حالیہ جنگ کے دوران عراق کے صحرا میں ایک پرانے ہوائی اڈے کا استعمال کرتے ہوئے ایک فوجی اڈہ قائم کیا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ نے بھی اس واقعہ کی تصدیق کی ہے۔  ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد، اسرائیلی فوجیوں کو عراق کے جنوب مغربی حصے، خاص طور پر صحرائے نجف میں دیکھا گیا، اور ان کی عراقی افواج کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں ایک عراقی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔  
سیکورٹی اہلکار نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے صحرائے نجف میں ایک ترک شدہ فضائی پٹی پر اڈہ قائم کیا۔  انہوں نے کہا کہ اب وہاں کوئی فوجی موجود نہیں، لیکن ممکن ہے کہ انہوں نے سامان چھوڑ دیا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن امریکا کے ساتھ ہم آہنگی میں تھا، لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ افواج کب تک وہاں رہیں گی یا ان کا مشن کیا تھا۔  دوسری طرف، اسرائیلی فوج نے بھی اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔