لاہور ہائیکورٹ نے یوٹیوبر سعد الرحمان المعروف ڈکی بھائی کی اہلیہ سے مبینہ رشوت لینے کے کیس میں اہم پیش رفت کی ہے۔
عدالت عالیہ کی جج عبہر گل خان نے چھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر سرفراز چوہدری، شعیب ریاض اور سلمان عزیز کی بعد از گرفتاری ضمانتیں منظور کی گئی ہیں۔عدالت نے ملزمان کو ہر ایک کے لیے ایک، ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہائی کی اجازت دی ہے۔ یہ مقدمہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCIA) کے اہلکاروں کے خلاف درج کیا گیا تھا، جس میں الزام تھا کہ انہوں نے ڈکی بھائی کی گرفتاری کے دوران اختیارات کا ناجائز استعمال کیا اور رشوت طلب کی۔
مدعیہ کے مطابق، مرکزی ملزم سرفراز چوہدری نے بطور رشوت پانچ لاکھ روپے وصول کیے تھے، تاہم عدالت نے کہا کہ ریکارڈ پر کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ سرفراز چوہدری نے رقم براہِ راست وصول کی ہو۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ پراسیکیوشن کسی متاثرہ شخص کو سامنے لانے میں ناکام رہی، اور رشوت کی رقم کی براہِ راست وصولی ثابت نہیں ہو سکی۔
فیصلے میں عدالت نے مزید کہا کہ کیس کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ میں شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا، جبکہ موجودہ مرحلے پر ملزمان کو ضمانت دینے کے لیے کافی بنیاد موجود ہے۔
اس فیصلے کے بعد ملزمان عارضی طور پر رہا ہو گئے ہیں، اور کیس کے اگلے مرحلے میں ٹرائل کورٹ میں شواہد کی بنیاد پر حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔