اسلام آباد(آن لائن)چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے موجودہ معاشی صورتحال کے پیش نظر سینیٹ سیکرٹریٹ میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور ان کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا۔ اس عمل میں سینیٹ کے بجٹ اخراجات میں نمایاں کمی پر توجہ دی گئی، جس کا آغاز چیئرمین کے اپنے دفتر کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی سے کیا گیا۔مالیاتی نظم و ضبط کو ہر سطح پر نافذ کرنے کے اصول کو اپناتے ہوئے، چیئرمین سینیٹ نے ہدایت کی کہ کفایت شعاری اقدامات کا آغاز اعلیٰ ترین سطح سے ہونا چاہیے۔ چنانچہ چیئرمین کے دفتر کے بجٹ میں نمایاں کمی کا حکم دیا گیا، تاکہ دیگر تمام شعبے بھی اس کی پیروی کریں۔چیئرمین سینیٹ نے سیکرٹریٹ میں فوری طور پر کفایت شعاری اقدامات کے نفاذ کے لیے جامع ہدایات جاری کیں، جن میں بیرون ملک دوروں پر مکمل پابندی، پی او ایل (پٹرول، آئل اور لبریکنٹس) کے استعمال میں پچاس فیصد کمی، ساٹھ فیصد سرکاری گاڑیوں کو غیر فعال کرنا، غیر ضروری خریداریوں پر سخت پابندی، اور حکومتی پالیسی کے مطابق تنخواہوں سے کٹوتیوں/عطیات کا نفاذ شامل ہے۔ان اقدامات کے نتیجے میں سینیٹ سیکرٹریٹ نے موجودہ مالی سال کے باقی ماندہ بجٹ کے استعمال میں پچاس فیصد سے زائد کمی کی پیش گوئی کی ہے، جس سے اندازاً 700 سے 750 ملین روپے کی بچت متوقع ہے۔چیئرمین سینیٹ نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی عہدہ ایک مقدس امانت ہے اور اس کے تقاضے مالی معاملات میں اعلیٰ ترین احتیاط اور دانشمندی کا تقاضا کرتے ہیں