سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کی ایک جماعت نے اسلام آباد میں ہونے والی بریفنگ میں شرکت سے انکار کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اس نازک وقت پر بھی ریاست کے ساتھ نہیں کھڑی ہوئی اور وہ اس وقت بھی قومی مفاد میں کوئی مثبت قدم اٹھانے کو تیار نہیں ہے۔شرجیل میمن نے میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ جب تک اڈیالہ جیل میں قید کسی فرد کی اجازت نہ ہو، وہ قوم کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ اِن کیمرہ بریفنگ صرف بلوچستان پر نہیں ہو رہی، بلکہ خیبر پختونخوا کے حالات پر بھی بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور اس جنگ میں سب کو ساتھ چلنا چاہیے۔وزیر سندھ نے مزید کہا کہ 18 اکتوبر کو دہشت گردوں کے حملے کا نشانہ بننے والے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کی قربانیاں بھی دہشت گردی کے خلاف کھل کر مزمت کا سبب بنی ہیں۔
پیپلز پارٹی نے ہمیشہ دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور امن کے قیام کے لیے آواز اٹھائی ہے۔شرجیل میمن نے اس موقع پر پی ٹی آئی کے موقف پر بھی تنقید کی کہ وہ طالبان کے دفاتر کھلوانے والے آج ان کے ساتھ ہیں اور یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پی ٹی آئی نے دہشت گردوں کے ساتھ معاملات طے کیے ہیں۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے واضح پیغام کو دہراتے ہوئے کہا کہ "کچھ بھی ہو جائے، ہم کینال نہیں بننے دیں گے" اور یہ پیغام صدر آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کی پالیسی کا حصہ ہے۔