کراچی: مصطفی عامر قتل کیس کی سماعت کے دوران ملزم ارمغان نے عجیب و غریب بیانات دیے، والد سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔
کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں مصطفی عامر قتل کیس کی سماعت ہوئی، جہاں ملزم ارمغان نے اپنے والد سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور کہا کہ اسے اپنے والد سے کوئی تعلق نہیں۔ دوران سماعت، ملزم نے اپنے والد کے وکیل کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وکیل کے ساتھ نہیں چلیں گے۔ اس موقع پر ملزم نے عجیب و غریب بیانات دینا شروع کر دیے اور کہا کہ اسے پاک فوج کی مدد کی ضرورت ہے، اس کے مطابق موساد اور جیوش مافیا اسے ٹارگٹ کر رہے ہیں۔
عدالت نے ملزم ارمغان کے والد کو شور شرابہ کرنے پر باہر نکال دیا، جس پر پولیس اہلکاروں نے کامران قریشی کو کورٹ کمپلیکس سے باہر نکالا۔ اس کے علاوہ، عدالت نے ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ میں 24 مارچ تک توسیع کردی۔ وکیل صفائی طاہر تنولی کے مطابق، ملزم ارمغان نے اعتراف جرم کی خواہش کا اظہار کیا، جس پر عدالت نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو اعتراف جرم کی ہدایت کی۔