بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط کرانے کا حکم، اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط کرانے کا حکم، اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہدایت

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے عدالتی حکم کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے بانی پی ٹی آئی اور  بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط کروا کر فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت کی۔سماعت کے دوران وکیل صفائی سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ 30 اپریل کے عدالتی حکم، جس میں سزا معطلی کی درخواستوں کے بجائے مرکزی اپیلوں کو سننے کا فیصلہ کیا گیا تھا، کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنا چاہتے ہیں، تاہم وکالت نامے تاحال دستخط شدہ صورت میں فراہم نہیں کیے گئے۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سے تو ملاقات کرائی گئی، لیکن بشریٰ بی بی سے گزشتہ چھ ماہ سے ملاقات نہیں کروائی گئی، جبکہ ان کی صحت اور بینائی سے متعلق مسائل بھی موجود ہیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر درخواست گزار اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنا چاہتے ہیں تو انہیں وکالت ناموں تک رسائی کیوں نہیں دی جا رہی۔ نیب پراسیکیوٹر نے جواب دیا کہ وکالت ناموں کا معاملہ نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کو ہدایت جاری کی کہ سات روز کے اندر عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور وکالت ناموں پر دستخط کروا کر وکلا کے حوالے کیے جائیں۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت جون کے آخری ہفتے تک ملتوی کر دی۔