عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی اور اس کے ملکی معیشت پر ممکنہ اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد، تہران کی تیل برآمدات میں اضافہ اور آبنائے ہرمز کی بحالی کا امکان پیدا ہونے سے عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 78.66 ڈالر اور امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 75.81 ڈالر فی بیرل تک گھٹ گئی ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ کمی اس توقع پر مبنی ہے کہ ایران جلد ہی تیل کی عالمی منڈی میں واپس آ جائے گا، جس سے تیل کی فراہمی میں اضافہ ہوگا اور قیمتیں کم ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان میں بھی عالمی تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات ظاہر ہونے کی توقع ہے۔ اس سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 30 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی کی گنجائش ہے، اگر روپے کی قدر مستحکم رہتی ہے اور تیل کی قیمتیں 79 سے 80 ڈالر کے قریب رہتی ہیں۔ حکومت ممکنہ طور پر ٹیکس اور لیوی میں ردوبدل کرکے عوام کو فوری ریلیف دے سکتی ہے۔
اوگرا آئندہ قیمتوں کا تعین کرنے کے لیے وزارتِ خزانہ کو سمری بھیجے گا، جس کے بعد وزیراعظم جمعہ کی شب نئی قیمتوں کا اعلان کریں گے۔ حتمی قیمتوں کا انحصار اوگرا کی سفارشات، ڈالر کے نرخ، درآمدی لاگت، اور حکومتی ٹیکس پالیسی پر ہوگا۔ اگر حکومت مکمل ریلیف منتقل کرتی ہے، تو قیمتوں میں 30 سے 50 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے، جس سے عوام کو فوری مالی راحت مل سکتی ہے۔